حضرت پیر سید حزب اللہ شاہ تخت  دھنی پیرپگاڑہ سوم

پیر سید حزب اللہ  شاہ راشدی تخت دھنی پگاڑہ سوم،  کو کمسنی میں اس عظیم خانقاہ کی ذمیداری ملی ، 45 برس کے طویل عرصہ میں سید حزب اللہ شاہ تخت دھنی نے اپنی حکمت ، دانائی اور دو اندیشی سے حر جماعت کو  منظم کیا۔

ولادت و نسب:  

حضرت پیر سید حزب اللہ شاہ تخت دھنی کی ولادت ۔۔۔ پیرپگاڑادوم سید علی گوہر شاہ  کے گھر ہوئی۔ سید حزب اللہ شاہ تخت دھنی کے والد گرامی کی اس وقت عمر مبارک 30 برس تھی۔

تعلیم وتربیت:  

سید حزب اللہ شاہ تخت دھنی کو ابتدائی اسباق والد گرامی نے دیئے ، مگر آپ ابھی پانچ برس کے بھی نہیں ہوئے تھے کہ والد گرامی کا وصال ہوگیا۔  آپ  اکلوتے تھے۔ اس وقت حر جماعت کے معمر خلفاء موجود تھے۔ اور محض پانچ برس کی عمر میں سید حزب اللہ شاہ تخت دھنی کو مسند نشینی ملی۔ اسی لئے خلفاء نے سید حزب اللہ شاہ تخت دھنی کی تعلیم وتربیت پر بھر پور توجہ دی۔

ان کے ساتھ آپ کے چچا جان سید علی حیدر شاہ نے آپ کی پرورش اور تربیت کا خاص خیال رکھا۔ تعلیم کے لئے   آخوند میاں محمد بخش اور مولانا محمد عیسیٰ  ٹھاروشاہی کو مقرر کیا گیا۔ بعد ازان آپ اپنی خداداد صلاحیت اور ذاتی مطالعہ سے علوم دینیہ میں  ملکہ حاصل کیا۔

  سجادگی:

حضرت پیر سید علی گوہر شاہ اول کے وصال وقت حضرت پیر سید حزب اللہ شاہ تخت دھنی کی عمر محض پانچ برس تھی۔ اور آپ اپنے والد کے اکلوتے فرزند تھے تو  مشاورت سے آپ کو پیر پگاڑا سوم منتخب کیا گیا۔ 

علمی مقام:

حضرت سید حزب اللہ شاہ تخت دھنی نہ صرف ایک سجادہ نشین تھے بلکہ  ایک علمی ، دینی اور  طریقت کے سلسلہ کے وارث تھے۔ آپ کے آباء و اجداد کی علمی حیثیت مسلمہ تھی، اس لئے حضرت پیر سید حزب اللہ شاہ تخت دھنی کی ذات میں اپنے بزرگوں کی سارے اوصاف جمع تھے۔ اساتذہ کے بعد آپ اپنے طور پر تحصیل علم میں مصروف رہے۔ آپ کی صحبت میں علمائے کرام ہر وقت موجود ہوتے تھے۔

انکی بڑی عزت افزائی  ہوتی تھی۔  کئی علماء آپ سے دلی عقیدت اور محبت رکھتے تھے۔ علم اور علماءکی قدردانی تھی کہ آپ کو کتابوں  سے بڑا شغف تھا، خانقاہ  اور جماعت کے کاموں سے فرصت میں اکثر مطالعہ میں وقت گزارتے تھے۔ آپ اپنے کتبخانہ کے لئے عرب ممالک سے گران قیمت  کتب  خریدتے تھے۔ 

علماء  کو مختلف مواقع پر مدعو کرتے تھے۔ انہیں ہر طرح کی عزت و تکریم سے رخصت فرماتے تھے۔

حافظ محمد صدیق برچھونڈی شریف، مولانا نبی بخش کولاچی، مفتی عبدالغفور ہمایونی ، مولانا محمد صدیق نورنگ زادہ  اور دیگر علمائے کرام آپ کی صحبت میں ہوتے تھے۔

ذاتی اوصاف :

اللہ تعالیٰ جب کسی کو اپنا  مقرب بناتا ہے تو اس کو جامع الصفات بنا دیتا ہے۔ حضرت سید حز ب اللہ شاہ کی سوانح اور زندگی پر دستیاب کو دیکھا جائے تو حضرت پیر سید حزب اللہ شاہ تخت دھنی بے شمار     اوصاف کے مالک تھے۔

صورت میں پاکیزگی تو سیرت میں شائستگی۔

حضرت پیر سید حزب اللہ شاہ تخت دھنی بہت زیادہ حسین و جمیل تھے آپ کی باہنی آنکھ کے نیچے تل آپ کے حسن میں اضافہ تھا۔ جس نشانی کو سندھ کے معروف بزرگ مخدوم عبدالرحیم گرہوڑی کی پیش گوئی  میں ذکر کیا جاتا ہے۔

سخاوت میں آپ سندھ میں “حاتم طائی ” تھے، مسکین اور نادار لوگوں کی حاجت روائی انکی مالی امداد کر کے آپ کو سکون ملتا تھا۔ کسی سائل کو خالی نہیں لوٹایا۔ کبھی کبھی سائل آپ کی ذاتی استعمال کی چیزیں مانگتے تو آپ بنا کسی دیر کے اس کو عطا  کرتے تھے۔ ایک شاہ صاحب سائل بن کر آیا ، اس  وقت کچھ موجود نہیں تھا، شام تک اس کو ٹھہرایا ، شام کو جب  دس ہزار نقد، ایک اونٹ چاندی کے زیورات اور سازوسامان کا  اور باقی بہت زیادہ مویشی آئی  تو شاہ صاحب کو بلا کر سب کچھ ان کے حوالے کردیا۔

اسی طرح جو ملتا تھا ، راہ خدا میں خرچ کردیتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ آپ کے پاس سائلوں کو تانتا بندھا رہتا تھا۔

تخت دھنی

معمولات:

خانقا ہ کے دیکر مشائخ کے طرح معمول کی عبادت اور اوراد و وظائف میں مشغولی کے بعد حضرت پیر سید حزب اللہ شاہ تخت دھنی مریدوں اور صاحبزادوں کی تربیت و اصلاح، حاجتمندوں کی مدد،   مہمانوں سے ملاقات، علماء سے صحبت،  شاعروں سے  محفل ، مطالعہ، جماعت اور خانقاہ کے کاموں کی نگرانی اور احکامات جاری فرماتے تھے۔ آپ کی معمولات میں سفر اور گھڑسواری بھی تھی۔  جمعہ کے دن  امی جان کی حضور میں دعا طلبی کے لئے حاضر ہوتے تھے۔ جمعہ کی امامت اور خطابت خود فرماتے تھے۔ اپنے بزرگوں کی طرح قرآن و حدیث اور مثنوی شریف سے وعظ فرماتے تھے۔

شادی و اولاد:

حضرت پیر سید حزب اللہ شاہ تخت دھنی نے 4 نکاح فرمائے، جس سے آٹھ فرزند پیدا ہوئے۔   کوٹ میر محمد کے سادات  میں سے آپ نے نکاح فرمایا ، اس سے چار فرزند    سید علی گوہر شاہ ثانی پگاڑہ چہارم، سید شاہ مردان شاہ اول پگاڑہ پنجم ، سید علی مظفر شاہ اور سید غلام مصطفیٰ شاہ  ہوئے۔ باقی تین حرم سے سید علی اصغر شاہ ۔۔۔

نمایاں خدمات:

حضرت پیر سید حزب اللہ شاہ تخت دھنی نے 45 سالہ دور سجادگی میں بہت بڑی خدمت کی۔  آپ کے دور کو حرجماعت کا “سنہری عہد ” کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔

حضرت پیر سید حزب اللہ شاہ تخت دھنی نے اپنے  اسلاف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اسفارکئے جس سے حلقہ اراد ت میں بہت بڑا اضافہ ہوا۔جماعت کی کثرت کی وجہ سے سلسلہ    ارشاد و تلقین   کو قائم رکھنے ، معاشی اور معاشرتی طور پر ان کی خبر گیری کے لئے آپ نے خانقاہ پر “چوکی” کا نظام متعارف کروایا۔ 

خانقاہ کے پیش امام مولانا عبدالقادر سولنگی نے آپ کے احکامات کے مطابق  علاقہ جات اور 12 ماہ کے مطابق جماعت کی تنظیم سازی کی۔ جس کے لئے ایک   “مکھ” ( ذمیدار) مقرر کیا گیا، جس کی مدد کے لئے نائب بھی رکھے گئے، تاکہ وہ اپنے علاقہ کے جماعت  کے احوال سے واقف ہوں  ۔ اس کو آپ کے “تفردات” میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ اسی وقت سے آج تک حر جماعت   کی شناخت اس مقرر چوکی کے حساب سے ہے۔ وہ چوکی نام سے ہی اپنے علاقہ اور حدود کو ظاہر کرتی ہیں۔

تخت دھنی

حضرت پیر سید حزب اللہ شاہ تخت دھنی ہی کے دور میں آپ کے جانثاروں پر مشتمل مریدوں کا ایک طبقہ “فرق” کے نام سے قائم ہوا۔ جس کی سربراہی فقیر غلام نبی لغاری اور دیگر  خلفاء کے نگرانی میں تھا۔ آگے چل کر حر جماعت میں یہ ایک الگ طبقہ متعارف ہوا۔ ان  کے علاوہ 12 چوکی پر مشتمل جماعت  “سالم” اور یہ طبقہ “فرق” کے نام سے  ۔ آ ج  “فرق” جماعت کی 4 چوکیاں الگ ہیں۔ مگر یہ بات یاد رہے کہ سالم اور فرق جماعت  میں   عقائد اور نظریات کا کوئی فرق نہیں، صرف الگ الگ پہچان ہے۔

جذبہ حریت آپ کی میراث تھی۔ آپ اگر حسینی تھے تو مرید “حر” تھے۔ آپ جب سجادہ نشین ہوئے تو انگریز سامراج نے پورے برصغیر پر قبضہ جما رکھا تھا۔ انگریز نے میرعلی مراد اور دیگر ذرائع سے آپ کو   بہت تنگ کیا۔ یہاں تک کہ آپ کو جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر   عدالتوں میں لایا۔ نظربند ی  کے ساتھ کئی حربوں کو آزمایا مگر آپ کے پائے استقلال میں لرزش نہیں آئے۔

آپ نے فرنگیوں کی اس کارستانی کے خلاف خلافت عثمانیہ کے سلطان عبدالحمید ثانی کے نام  مکتوب بھیجا جس میں انگریز کی عیاری ، تسلط اور مسلمانوں پر ظلم کا احوال تھا۔ عملی طور پر آپ نے انگریز سے نفرت کا اظہار کیا۔ لئنسڈاؤن  بئراج کی افتتاحی تقریب میں شراب کے خلاف احتجاج اور تقریب کے بائیکاٹ   سے انگریز کو پتہ چل گیا کہ سندھ میں سب سے بڑی رکاوٹ  یہ پیر اورا س کے مرید ہیں۔ حضرت پیر صاحب کی عمل اور تعلیم کا  نتیجہ تھا کہ سندھ میں آپ کی دور میں “حر تحریک اول”  وجود میں آئی جس نے انگریز سامراج  کی نیندیں حرام کردی۔    

تعمیرات:  

فنون لطیفہ کی تعریف میں تو بہت کچھ آتا ہے، مگر مسلمانوں میں فنون لطیفہ میں مصوری، کیلیگرافی،کاشیگری،  عمارت سازی ، نقش نگاری    کا نام ہے۔ اسلامی  فتوحات کا دائرہ وسیع ہوا تو مسلمانوں میں فن تعمیر   نے بہت بڑی ترقی کی۔ عمارت سازی میں مساجد کی تعمیر ، نقش نگاری، کیلیگیرافی نے اس فن میں نئے طریقے متعارف کروائے۔ دنیا کے اندر موجود قدیم مساجد پاکیزگی اور  خوبصورتی کا سنگم ہیں۔ برصغیر پاک و ہند میں مغلیہ دور میں فن تعمیرات میں بڑی   ترقی ہوئی۔

کیلیگرافی (خطاطی) میں مسلمانوں نے الگ انداز اور طرز متعارف کروایا۔

حضرت پیر سید حزب اللہ شاہ تخت دھنی راشدی نے اپنی خانقاہ پر مسجد ( جو تاحال موجود ہے)   کی تعمیر کروائی تو اس میں نقش و نگار آپ نے خود اپنے ہاتھ سے نکالے اور اس فن میں آپ کو  ید طولیٰ حاصل تھا۔ مسجد شریف میں چینی کے  اینٹوں پر نقش آپ کی  احکامات اور بتائے ہوئی طرز پر بنائے گئے۔ کاٹھی کے ستونوں پرکی ڈیزائین، اندر باہر تزئین و آرائش، فرش پر ماربلز کا انتخاب آپ کی مہارت اور  اس فن میں کمال  کے عکس ہیں۔

اس کے ساتھ آپ نے خانقاہ پر تعمیرات کا ایک سلسلہ شروع کیا۔ جس میں  اپنے آباء وا جداد کے مزارات پر روضہ مبارک،  اپنی رہائش کا بنگلہ (کوٹھی) ، حویلی، صاحبزادگان کے لئے  گھر، مریدین کے لئے  جماعت خانہ کی تعمیر شامل ہے۔ 

تصنیفات :

حضرت پیر سید حزب اللہ شاہ تخت دھنی  علمی وادبی مذاق رکھتے تھے۔ علمائے کرام کی صحبت کے ساتھ، شعراء کرام آپ کی مجلس میں ہر ہروقت حاضر ہوتے تھے۔ محفل میں کوئی  ” طرحی شعر” چھوڑتا تو  اشعار کا ایک سلسلہ جڑجاتا تھا۔ پھر جس کا اچھا شعر ہوتا اسے انعام و خلعت عطا ہوتی تھی۔

فارسی زبان  پر آپ کو کامل دسترس تھی، آپ نے اپنی شاعری میں ایک دیوان مرتب کیا۔ جو “دیوان مسکین” کے نام سے فارسی اور سندھی ترجمہ کے ساتھ 1985 ء میں جمعیت علماء سکندریہ پیر جو گوٹھ نے چھپوایا ہے۔ “دیوان مسکین” میں حروف تہجی کے اعتبار سے غزل،  قصائد، مخسمات، فرد، قطعات  اور منقبت ہے۔    ڈبل کرا‍ ؤن سائز میں 402 صفحات  پر مشتمل ہے۔

 نقاشی  میں آپ کو  مہارت تامہ حاصل تھی۔ یہ فن آپ نے استاد محمد حیدرآبادی سے سیکھا اور اتنا کمال کہ  بقول پیر حسام الدین راشدی اپنے عہد کے مانی اور بہزاد  تھے۔  “صنعت چینی” آپ کی 200 صفحات پر تصنیف ہے۔ مگر پیر سید علی اصغر شاہ کے علاوہ کہیں اور اس کا نسخہ نہیں اور نہ ہی  یہ چھپی ہے۔

ان کے علاوہ حضرت پیر سید حزب اللہ شاہ تخت دھنی نے مولانا محمد صدیق نورنگ زادہ سے تفسیر     “ارشاد الصدیقین لہدایۃ المریدین”  لکھوایا جو آپ کے بعد آپ کے فرزند نے چھپوایا۔ حدیث شریف میں “مشکواۃ المصابیح “کا بھی سندھی ترجمہ کروایا مگر وہ  چھپ نہیں سکا۔

وصال:

سخاوت  و شجاعت  کے اس بحر بے کنار،  علم و فضل کے صاحب  ، سخن شناس،    خلیق و شفیق حضرت پیر صاحب کا وصال زہرخورانی کی وجہ سے   4 محرم الحرام 1308 ہجری مطابق 21 آگسٹ 1890 ء کو ہوا۔  پنجاہ برس کی عمر میں آپ کی الوداعی پر اہل عقیدت   کو گھایل کردیا۔ حضرت پیر سید حزب اللہ شاہ تخت دھنی کے وصال پر مختلف شعراء اور علماء نے فارسی اور سندھی میں قطعات اور مرثیہ لکھے۔

(نوٹ یہ مضمون جناب ڈاکٹر نبی بخش بلوچ، مفتی محمد رحیم سکندری، مفتی عبدالرزاق سکندری کے مضامین کا اختصار ہے۔ تفصیل کے لئے کرانالاجی یا دیوان مسکین کا مقدمہ ملاحظہ فرمائیں۔

حوالہ جات:

سکندری مفتی محمد رحیم ، مترجم ، دیوان مسکین ، 1985 ء ، جمعیت علمائے سکندریہ پیرجوگوٹھ۔

 سکندری مفتی محمد رحیم سکندری ، جامعہ راشدیہ جا پنجاہ سال، 2004 ، علمائے سکندریہ پیرجوگوٹھ۔

بلوچ، ڈاکٹر نبی بخش خان،  (مرتب: ڈاکٹر عبدالرسول قادری)  ، سندھ جا پاگار پیر، 2015ء ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ ریسرچ فاؤنڈیشن ۔

راشدی حسام الدین پیر،  گالھیون گوٹ وٹن جون،

سکندری ، مفتی عبدالرزاق مہران، لکیاری لال،  ۔۔۔ مکتبہ حزب الاحناف سانگھڑ۔

Leave a Comment