“اللہ کا شکر کہ حضرت روضہ دہنی کا وارث آگیا” یہ الفاظ شمس العلماء حضرت پیر سید شاہ مردان شاہ اول کے ہیں۔ آپ نے اس وقت فرمائے جب دوسرا فرزند ارجمند حضرت پیر سید صبغت اللہ شاہ ثانی سورہیہ بادشاہ پیدا ہوا ۔ کئی دنوں تک خانقاہ شریف پر اس خوشی کا عجیب سماں جاری رہا۔
ولادت و نسب:
حضرت پیر سید صبغت اللہ شاہ ثانی سورہیہ بادشاہ 6 مارچ 1909 میں پیدا ہوئے، آپ کی ولادت تھر کے سفر میں ہوئی۔ والدہ ماجدہ نودیرہ کے سادات میں سید محمد مجتبیٰ شاہ راشدی کی دختر نیک اختر تھی۔
نام و القاب:
حضرت پیر سید صبغت اللہ شاہ ثانی سورہیہ بادشاہ کے دو نام تھے ایک سید قائم شاہ دوسرا نام اپنے جد امجد پیرپگاڑا اول کی نسبت سے سید صبغت اللہ شاہ (ثانی) رکھا گیا۔ آپ کے القاب میں امام انقلاب، سورہیہ بادشاہ، مجاہد اعظم ، پگ دہنی۔ رئیس الاحرار ۔۔۔ تذکرہ پیران پاگارہ ، تبسم چوہدری، جی ایم سید۔
تعلیم و تربیت اور اساتذہ:
قرآن مجید، فارسی اور ابتدائی علوم آپ نے والد گرامی، مولانا امام بخش مہیسر ،حافظ خدابخش سومرو اور عبدالرزاق میمن سے حاصل کئے۔ ابھی تعلیم و تربیت کا سلسلہ جاری تھا کہ والد گرامی وصال پا گئے ، جس کی وجہ سے 12 سال کی کمسن عمر میں حضرت پیر سید صبغت اللہ شاہ ثانی سورہیہ بادشاہ سجادہ نشیں ہوئے تو تعلیمی سلسلہ منقطع ہوگیا۔ مگر آپ نے اپنے طور پر تعلیم جاری رکھی۔ حدیث پاک، فقہ کے ساتھ تصوف میں مہارت مثنوی رومی اور اپنے جد امجد حضرت سید محمد راشد روضہ دہنی کی فارسی ملفوظات اپنے مطالعہ میں رکھے۔
سجادگی:
حضرت سید شاہ مردان شاہ پگاڑا پنجم نے 60 سال کی عمر میں وفات پائی۔ بڑے صاحبزادہ سید حسین علی شاہ والد گرامی کی حیات میں انتقال فرماگئے تھے ، پھر خاندانی روایات اور حر جماعت کی مجلس شوریٰ کے فیصلہ موجب دوسرے نمبر فرزند سید صبغت اللہ شاہ ثانی سورہیہ بادشاہ کو پیر پگاڑا ششم منتخب کیا گیا۔ 1921 ء میں جب آپ سجادہ نشین ہوئے تو آپ محض 12 برس کے تھے۔
شادی و اولاد:
حضرت سورہیہ بادشاہ نے کتنی شادیاں کی ، کوشش کے باوجود اس کا تفصیل میسر نہیں ہوسکا۔ آپ کی اولاد میں دو فرزند ارجمند سید شاہ مردان شاہ ثانی پیر پگاڑا ہفتم، سید حزب اللہ شاہ عرف نادر علی شاہ۔ اورصاحبزادیاں تھی۔
انگریز کے اعلان جنگ:
برصغیر میں سندھ سے فرنگی سامراج کی ناک میں دم کرنے والے حر اور پیرپگاڑا تھے۔ پیرپگاڑا سوم، چہارم اور پنجم کے حق گوئی اور بے باکی دیکھی تھی۔ پیر پگاڑا ششم حضرت پیر سید صبغت اللہ شاہ ثانی سورہیہ بادشاہ جس نے کمسن عمر میں خانقاہی نظم کو سنبھالا تھا، انگریز سامراج اور ان کے رفقاء نے سمجھا کہ اس کمسن پگارا کو ہم اپنی مرضی اور حکم موجب چلائیں گے ، مگر یہ ان کی بڑی بھول تھی کیونکہ حضرت سید صبغت اللہ شاہ ثانی کی رگوں میں حسینی خون تھا وہ قافلہ حریت کے سالار تھے کیونکر اپنی خاندانی روایات سے ہٹ سکتا تھا۔
انگریز سے نفرت کا آغاز آپ نے اپنی رہائشگاہ پر معلق آفریں نامہ کو توڑ کر کیا۔ ایک طرف سے یہ انگریز اور ان کے ساتھیوں کے لئے پیغام تھا ، جس عمل سے ان کی امیدوں پر پانی پھر گیا۔
حر جماعت کی تربیت:
حضرت پیر سید صبغت اللہ شاہ ثانی سورہیہ بادشاہ حر تحریک کے سالار ہونے کے ساتھ حروں کے روحانی پیشوا بھی تھے، اس لئے حالت جنگ میں بھی آپ نے حرجماعت کی تربیت جاری رکھے۔ اسلامی شعائر پر سختی سے عمل، نیک اعمال کی ترغیب اور برے کاموں سے ترہیب کے ساتھ نشہ پر مکمل پابندی ، شادی و بیاہ پر غیر اسلامی رسومات سے اجتناب، لباس میں ہندوانہ تشابہت سے پرہیز ، روزہ ، نماز اور زکواۃ کی پابندی کے ساتھ ہر غیر اسلامی فعل سے باز رکھنے کے لئے آپ نے لوگ بھی مقرر فرمائے تو تحریری طور پر حکم نامے جاری فرمائے۔
اور مرتکب لوگوں کے لئے جزا و سزا کا اہتمام بھی کیا۔ جس کی وجہ سے حالت جنگ میں بھی حر ایک مومن کے مانند اپنے اللہ کے حضور میں جھکے رہے۔

سوشل بائیکاٹ:
حضرت پیر سید صبغت اللہ شاہ ثانی سورہیہ بادشاہ نے تحریک کو کامیاب بنانے کے لئے اپنے متعلقین کو حکم فرمایا کہ غیر ملکی اشیا ء خریدنے کے بجائے اپنی تیار شدہ چیزیں استعمال کریں۔ ہرقسم کے نشہ شراب، بھنگ، افیون سے بازرہیں کوتاہی کی صورت میں ان کو سزا دی جائے گی۔ خواتین عاج کی چوڑیاں ( جو ہاتھی کے دانتوں سے تیار کی جاتی ہیں) نہ پہنیں۔
مقدمات:
حضرت پیر سید صبغت اللہ شاہ ثانی سورہیہ بادشاہ ، سجادہ نشینی کے ایا م سے ہی انگریز سامراج کے مخالف تھے۔ بر صغیر پر ان کی قابضانہ حکومت کے خلاف تھے۔ آپ نے لکھا کہ:”
جب انگریز نے اپنے مذموم مقاصد میں کامیابی نہ دیکھی تو اس مرد مجاہد کو ڈرانا دھمکانا شروع کیا۔ اس ضمن میں حضرت پیر سید صبغت اللہ شاہ ثانی سورہیہ بادشاہ پر ایک مقدمہ قتل دائر کیا۔ جس میں من گھڑت گواہ اور شواہد بنائے گئے۔ وہ مقدمہ سکھر کورٹ میں چلا، پیر صاحب نے اس کیس میں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کو اپنا وکیل بنایا، چونکہ انگریز حکومت ہر حال میں یہ کیس پیر صاحب پر تھاپنا چاہتی تھی اس لئے قائد اعظم پر بہت دباؤ ڈالا گیا ، جس کی وجہ سے قائد اعظم نے بھر پور احتجاج بھی کیا۔
گرفتاری و قید:
قتل کے جھوٹے مقدمہ ، جھوٹے گواہوں کی بنا پر حضرت پیر سید صبغت اللہ شاہ ثانی سورہیہ بادشاہ کو دس سال کی سزا سنائی گئی۔ اور سب سے اول رتناگری (انڈیا) جیل میں بھیجا گیا۔
جیل کے ان ایام میں حضرت پیر سید صبغت اللہ شاہ ثانی سورہیہ بادشاہ کو سمجھے اور پرکھنے کا موقع ملا۔ آپ نے جیل کے ایام کو کارگر بنانے کے لئے یہاں دنیا کی باغی تحریکوں کی تاریخ ، اسلامی تعلیمات اور اپنے بزرگوں کی سوانح،حالات اور ملفوظات کا گہرا مطالعہ کیا۔ جس کے وجہ سے آپ کی شخصیت میں اعتماد اور تحریک کو منظم کرنے کا نیا سلیقہ ملا۔ آپ نے وہاں اپنے مریدوں اور پیروکاروں کے لئے یادداشت اور حاصل مطالعہ پر مشتمل “ایک کتاب بنام “تنبیہ الفقراء ” لکھی۔
تصنیف و تالیف:
تنبیہ الفقراء نامی اس کتاب میں حضرت پیر سید صبغت اللہ شاہ ثانی سورہیہ بادشاہ نے قرآن و حدیث ، فقہی مسائل کے ساتھ اخلاق و آداب، صوفیاء کے حکیمانہ اقوال، اپنے اسلاف کی ملفوظات، سندہی محاورات، شاعری کے ساتھ انگریز سامراج سے نفرت اور ان سے مقابلہ کے لئے تیار ہونی والی جماعت کی تربیت کے نکات بھی شامل فرمائے۔
یہ کتاب سندھی زبان میں ہے۔
اردو زبان میں ہمارے محقق حافظ محمد یوسف بھنبھرو سکندری نے ترجمہ کیا اور سکندریہ پبلیکیشنز سے شایع ہوا ہے۔

خط و کتابت:
کئی سال قبل کسی اردو اخبار میں سورہیہ بادشاہ کے وہ خطوط چھپے تھے جو آپ نے قائد اعظم کے نام لکھے تھے۔ میں نے وہ رکھےتھے مگر نا جانے کہاں گم ہوگئے۔ ان خطوط میں آپ نے جاری مقدمہ اور فیس متعلق ذکر تھا۔
ان کے علاوہ حضرت پیر سید صبغت اللہ شاہ ثانی سورہیہ بادشاہ نے اپنے مختلف خلفاء اور معتمد مریدوں کے نام بھی خطوط لکھے جن میں مقدمہ، تحریک اور خانقاہ کے متعلق مسائل کا ذکر ہے۔ ان میں سے بعض خطوط کچھ سندہی جرائد و رسالات میں چھپے بھی ہیں۔ ان میں سے ایک کا نمونہ یہاں پیش کیا جاتا ہے:
طویل سفر:
جیل سے رہائی کے بعد حضرت پیر سید صبغت اللہ شاہ ثانی سورہیہ بادشاہ نے مریدوں کے علاقوںمیں جا کر وہاں کی معاشی، زمینی صورتحال کا معائنہ کیا۔ تحریک کے لئے وہاں کی جغرافیائی حقائق سے واقفیت حاصل کی۔ در اصل یہ سفر بھی اس خانقاہ کے مشائخ کی روایت کا تسلسل تھا۔ اس طویل سفر کا دورانیہ چھ ماہ سے زائد تھا۔ جن علاقہ جات میں آپ نے یہ سفر کیا۔ اس کی تفصیل سندہی جریدے ” جھونگار” (ایڈیٹر : استاد نظامانی) میں مولانا فقیر مولابخش مہر سکندری نے جو دی ہے۔ اس مضمون کو یہاں شامل کیا جارہا ہے:
گڑنگ بنگلہ پر سرگرمیاں:
رتناگری اور مدنا پور سے جب آپ رہا کر واپس لوٹے تو لقمان خیرپور میرس میں حضرت پیر سید صبغت اللہ شاہ ثانی سورہیہ بادشاہ کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ آپ نے آزاد ہونے کے بعد عزم مصمم سے انگریز کے خلاف تحریک کا آغاز کیا۔ جس میں آپ نے سانگھڑ کے قریب “گڑنگ بنگلہ” کو ہیڈ کوارٹر بنایا۔ جہاں آپ نے غازیوں کی بھرتی کی۔ ان کی جنگی اور عسکری تربیتی کے ساتھ ان کی اخلاقی تربیت پر بھی زور دیا۔ صوم و صلواۃ کی پابندی کے ساتھ ہرقسم کے نشہ سے اجتناب کے تاکیدی احکام جاری فرمائے۔ تحریک کے نتیجہ میں پیدا ہونی والی صورتحال سے نمٹنے کے لئے سادگی اور کفایت شعاری کی ترغیب دی۔
گڑنگ بنگلہ جو تحریک کا مرکز تھا ، وہ حر مجاہدوں کا سخت پہرہ ہوتا تھا۔ ان کی خبر گیری کے لئے پیرصاحب خود رات کو بیس بدل کر معائنہ فرماتے تھے۔ کسی منع کردہ کام میں مرتکب لوگوں کو متنبہ بھی فرماتے تھے۔
کئی فقیروں کی زبانی یہ روایت ہے کہ ہر قصبہ میں غازیان تحریک کی لسٹیں تیار ہوتی تھی، پھر وہ غازی پیر صاحب کی خدمت میں پیش کئے جاتے تھے۔ آپ ان کو آفرین اور ہمت دلاتے تھے۔
اہم واقعات:
حضرت پیر سید صبغت اللہ شاہ ثانی سورہیہ بادشاہ کے ایام میں سندھ میں دو بڑے واقعات ہوئے۔ ایک لاہور میل کا گرانا اور دوسرا مسجد منزل گاہ کی لڑائی۔
مسجد ، مدرسہ اور خانقاہ پر بمباری:
سندھ میں حروں کے خلاف اسمبلی میں “حر ایکٹ” کی منظوری دی گئی۔ اس کے بعد حروں کے خلاف کاروائیوں کا جواز بنا کر پیر صاحب کی خانقاہ پر ان کی ذاتی رہائشگاہ، بزرگوں کے مزارات اور مسجد کے ساتھ پیرجوگوٹھ پر بمباری کی گئی۔
حر وں کی کاروائیاں:
حضرت پیر سید صبغت اللہ شاہ ثانی سورہیہ بادشاہ کی گرفتاری، خانقاہ پر بمباری کے بعد حر مردوں اور خواتین نے انگریز کے خلاف علی الاعلان بغاوت کا اعلان کیا۔ مختلف علاقوں میں انگریز ملٹری، مخبر افراد اور حکومتی مقامات پر حروں نے حملہ شروع کردیئے جس کے باعث انگریز حکومت نے ہزارہا حروں جن میں خواتین، بوڑھے اور بچے شامل تھے ، شہید کیا باقیوں کو جیلوں اور کنسٹریشن کئمپس میں قید رکھا۔ ان کی املاک و زمینیں ضبط کی گئی۔ گھروں کو جلایا گیا۔ روزانہ کی جیل حاضری مقرر کی۔ مگر حروں کی جذبات میں کوئی کمی نہیں آئی۔ یہ سلسلہ قیام پاکستان کے بعد بھی 1952 ء تک جاری رہا۔
کراچی میں نظر بندی:
گرفتاری اور اہل خانہ کی نظر بندی: حروں کی کاراوئیوں ، سول نافرمانی کی تحریک کے باعث پیر صاحب کو دوسری بار گرفتار کیا گیا۔ اور حیدرآباد میں قید رکھا۔
مقدمہ اور شہادت:
حضرت سورہیہ بادشاہ کو جھوٹے مقدموں میں قید رکھ کر بالآخر 20 مارچ 1943 کو پھانسی دی گئی۔ اس مرد مجاہد نے جام شہادت نوش فرمایا مگر انگریز کے آگے جھکے نہیں۔