حضرت پیر سید شاہ مردان شاہ ثانی چھٹ دھنی پیرپگاڑہ  ہفتم

حضرت پیر صاحب پگارا ہفتم،سید شاہ مردان شاہ ثانی المعروف سید سکندرعلی شاہ چھٹ دھنی  ، برصغیر کی عظیم روحانی خانقاہ امام العارفین حضرت پیر سید محمد راشد صاحب الصوم (روزہ دھنی) قدس سرہ کے آٹھویں سجادہ نشیں، تحریک آزادی کے عظیم مجاہد، سید صبغت اللہ شاہ شہید سورہیہ بادشاہ کے بڑے صاحب زادے ، 22 نومبر 1928 ع بمطابق 7 جمادی الاخری ، پیر جو گوٹھ ضلع خیرپور میرس (سندھ) میں پیدا ہوئے۔

نام و نسب:

حضرت سید شاہ مردان شاہ ثانی چھٹ دھنی ، آپ کا خاندانی نام ہے ، جو آپ کے جد امجد شمس العلما ء حضرت پیر سید شاہ مردان شاہ اول کوٹ دھنی کی نسبت سے رکھا گیا ، سید سکندر علی شاہ آپ کا عرفی نام ہے، حضرت چھٹ دھنی بادشاہ سلسلہ نسب میں پانچ واسطوں سے  راشدی خانداں کے جد امجد حضرت پیر سید محمد راشد روزہ دھنی سے اور امام علی رضا ، امام موسی کاظم ، امام حسین ،حضرت علی المرتضی اور بی بی فاطمہ رضی اللہ عنھم  کے توسل سے اکتالیس واسطوں سے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتے ہیں۔

جب حضرت چھٹ دھنی بادشاہ ، آٹھ برس کی عمر میں تھے تو  چناہ شریف کے  سجادہ نشین سید محمد شاہ ثانی گیلانی کے دست بیعت ہو کر سلسلہ قادریہ میں شامل ہوئے۔ حضرت چھٹ دھنی بادشاہ کے بزرگ سلاسل نقشبندی اور سنوسی میں بھی بیعت  یافتہ تھے ،  مگر خاندانی روایت تحت اجازت یا بیعت صرف سلسلہ قادریہ میں کرتے تھے۔

القاب:

اس خانقاہ  کے متوسلین ، اپنے  مشائخ  کو نام کے بجائے القاب سے یاد کرتے ہیں ، دیگر بزرگوں کی طرح ، حضرت سید شاہ مردان شاہ کا  لقب “چھٹ دھنی” تھا ، جو سندھی زباں کا لفظ ہے ، اس کا  مطلب ہے سائبان۔ اپنے بزرگوں کے مزارات پر روضہ تعمیر کراکے اس پر سونے کا گنبد لگوایا ، اسی نسبت سے بھی کہتے ہیں۔ محسن ملت ، اعلی حضرت کے القاب سی بھی جماعت (مریدین اور معتقدین) یاد کرتے ہیں۔

چھٹ دھنی

تعلیم و تدریس:

احمد فقیر مہر نامی گھوٹکی کے ایک بزرگ اور حافظ امام بخش باقرانی والے نے ابتدائی تعلیم دی۔ اس کے بعد تحریک آزادی میں مصروف حضرت چھٹ دھنی بادشاہ کے والد گرامی سورہیہ بادشاہ کی گرفتاری اور خانداں کی نظر بندی کے باعث تعلیم تعطل کا شکار ہوئی ، 20 مارچ 1943 ع کو حضرت سورہیہ بادشاہ کو شہید کیا گیا ، آپ کے صاحبزادگان حضرت پیر سید شاہ مردان شاہ اور میاں حزب اللہ شاہ المعروف نادر علی شاہ کو ، تعلیم کے بہانے انگریز نے علی گڑھ کے طرف بھیجا۔

اس سفر کا احوال ، پیر صاحب خود بیان کرتے ہیں:

               کراچی سے ہمیں برقعے پہنا کر ، علی گڑھ لایا گیا ، وہاں ہم نے بہت دنوں بعد آزاد فضا میں سانس لیا، علی گڑھ میں دیگر تعلیم کے ساتھ ہماری درخواست پر برطانوی حکومت نے پراسیکیوٹنگ انسپیکٹر صدرالدین کو قرآن مجید کی تعلیم کے لیے مقرر کیا ، جو کبھی کبھی سبق دیتا تھا ، علی گڑھ میں کوئی خاص انتظام نہیں تھا ، پھر جون 1946 ع میں سمندری جہاز کے ذریعے لیور پول (انگلینڈ) پہنچایا گیا ، وہاں کسی پبلک اسکول میں داخل کروانے کے بجائےہیرو کے قریب پنر Pinner نامی ایک دیہاتی علاقہ میں ایک ریٹائرڈ فوجی میجر سی ڈیوس کے اسکول میں چھوڑا گیا ، وہاں مسٹر پلفورڈ ٹیوٹر اور برطانوی پروفیسر ٹرنر نگران تھے۔

اس اسکول کے طلبا کی تعداد ہمیشہ 10ـ12 ہی رہی اور سارے  ہی متعدد ممالک کے باغی رہنمائوں کی اولاد یا رشتیدار تھے۔ جن میں تھائی لینڈ ، روڈیشیا ، آئس لینڈ ، عراق ، ایران ، حبشہ (ایتھوپیا) کے تھے۔ ان میں سے حبشہ کے بادشاہ “ہیل سلاسی” کے قریبی رشتیدار مسٹر “زوڈی” ہمارے قریب تھا ، اسکول کا ماحول اتنا سخت تھا کہ کسی کو اپنی خاندان متعلق بات کر نے کی اجازت نہ تھی ، اس اسکول میں مضامین کا انتخاب بھی طلباء کی مرضی سے نہیں تھا ۔

حتی کہ امتحانات کی تیاری دوران عیسائیت کا مضمون Divity (خدائی) بھی (مسلمانوں کو) پڑھایا جاتا تھا ، حکومت پاکستان کے قیام تک یہ سلسلہ جاری رہا ، پھر مدہیہ پردیش کے ڈاکٹر رحمان کی توجہ دلانے کے بعد حکومت پاکستان نے نوٹس لیا ، اس کے بعد وہ نصاب تبدیل کیا گیا۔”

وہاں پیر صاحب کو لاطینی اور برادر کو فرانسیسی کی تعلیم بھی دی گئی۔1952 ع میں پاکستان واپسی اور گدی کی بحالی بعد اعلی حضرت امام احمد رضا خاں بریلوی رحمہ اللہ کے نبیرہ مولانا مفتی تقدس علی خاں حضرت چھٹ دھنی بادشاہ کے اتالیق بنے ، جس نے اسلامی علوم کی تعلیم دی۔ 

چھٹ دھنی

نظر بندی:

1942ع میں حضرت سورہیہ بادشاہ کو انگریز نے گرفتار کرکے کراچی میں رکھا ، اور صاحبزادگان کو گھر والوں کے ساتھ حراست میں لے کر کراچی میں بندر روڈ پر ماما پارسی اسکول کے قریب میر خدابخش ٹالپور کے گھر میں نظر بند کر کے پولیس کا پہرا لگایا گیا۔  وہاں کا منظر پیر صاحب خود یوں بیان کرتے ہیں:

“کسی سے ملاقات کی اجازت نہیں تھی۔ ہمارے ساتھ جو چار پانچ ملازم تھے ، ان کو بھی باہر جاکر کسی سے بات کرنی کی اجازت نہیں تھی ، وہ بھی ہماری طرح قیدی تھے۔ ہمارے ساتھ دو مرد ملازم تھے ، ان میں سے ایک کو ہم نے واپس جانے پر مجبور کیا ، بڑی مشکل سے اس نے ہاں کی ، کیونکہ وہ ہمیں چھوڑنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ حقیقت میں وہ وقت ہمارے لیے بہت مشکل تھا ، نظربندی کے علاوہ اور بھی بہت مشقتیں تھی ، ہمیں کسی قسم کی طبی امداد بھی نہیں ملتی تھی۔ اس لیے ہم نے کسی بے قصور ملازم کو اس تکلیف میں ساتھ رکھنا گوارا نہیں سمجھا۔ مگر انھوں نے ہمارے ساتھ کو ترجیح اور اہمیت دی۔

ہمارے والد محترم پیر سید صبغت اللہ شہید پر حیدرآباد کی جیل میں خصوصی مارشل لا تحت مقدمہ چلا ، انگریز نے پھانسی کی سزا سنا کر 20 مارچ 1943 ع کو انہیں شہید کردیا۔ اور ہمیں ایک پولیس آفیسر مسٹر محمود حسین کی نگرانی  میں علی گڑھ بھیجا گیا۔ وہاں سے انگلینڈ جلاوطن کردیا گیا۔ “

آزادی پاکستان اور حر:

14 آگسٹ 1947 ع کو اللہ کریم کے فضل سے  قیام پاکستان کا اعلان ہوا۔ آزادی کا پرچم لہرایا گیا، اس نئے ملک کی خوشی میں ، سب سے حضرت سورہیہ بادشاہ کا خاندان،صاحبزادگان اور ان کے حرمجاہدیں بھول گئے۔  تحریک آزادی میں جن کی املاک ضبط کی گئی،مکان جلائے گئے ، جن کی اولادیں  قتل کی گئی ،   انہیں  قید و بند میں محصور رکھا گیا، جنہوں  نے “سر” “خانبہادر” جیسے القاب کے بجائے آزادی کے خاطر جام شہادت کو ترجیح دی۔

نئے ملک کی آزاد فضا میں  اپنے خوابوں کا پرچم انہوں نے قید کے سلاخوں کے پیچھے دیکھا، ادہر  وطن سے دور ،سورہیہ باشاہ کے صاحبزادوں نے  دیار غیر میں اپنے آزاد وطن کا اعلان سنا۔  پاکستان کے نام سے ایک آزاد ملک بن گیا ، مگر اس آزادی کے خاطر جدوجہد کرنے والے قیدی ہی رہے۔

گدی کی بحالی :

حضرت پیر صاحب پگاڑا کے بقول:

“سنہ 1949 ع میں ، وزیر اعظم پاکستان نوابزادہ لیاقت علی خاں ، لندن کے دورہ پر آئے ، تو برطانیہ میں مقرر پاکستانی ہائے کمشنر ابراہیم رحمت اللہ کی کوشش  سے  نوابزادہ نے مجھے اور میرے بھائی میاں نادر علی شاہ کو اپنی قیام گاہ “کلیرجز”  ہوٹل پر بلایا۔ تحریک آزادی میں ہماری خاندانی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ  حکومت پاکستان ، تمہاری گدی کی بحالی  اپنا فرض سمجھتی ہے۔ ان کی زبانی یہ بات ہمارے لئے باعث فخر ہے۔  “

اس کے بعد بات آگے نہ بڑہی، 1952 میں اس کی بحالی تک کی درمیانی صورتحال متعلق خود حضرت پير صاحب پگاڑا  بيان کرتے ہیں کہ:

“ہو سکتا ہے کہ  ہمارے وہ مہربان ، جو پیر صاحب سورہیہ بادشاہ کے زمانہ میں  انگریز کے دست راست  اور  معاون  خاص تھے،  ہماری وطن  واپسی سے پریشاں ہوں  اور ہم سے خائف ہوں، اس بات کا  کافی مواقع پر انہوں نے اظہار بھی کردیا تھا ، ہماری آمد پر انہوں نے سوچا حر ہمیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر بدلہ لیں گے۔”

حر جماعت  1947 سے 1951 تک حکومتی اقدامات کو دیکھتی رہے ، جب حکومت کی طرف سے کوئی  امید افزا  پیش رفت نہ ہوئی تو  اپنے مرشدزادوں کی وطن واپسی اور دس سال سے  تعطل کی شکار گدی کی بحالی کے لئے حر جماعت کے سرکردہ راہنما میدان میں اترے۔ خانقاہ راشدیہ کے خاندانی مرشد حضرت پیر سید افضل شاہ گیلانی (سجادہ نشیں خانقاہ چناہ شریف ضلع جھنگ ، پنجاب) ، مٹیاری کے سید محمد علی شاہ جاموٹ، خانقاہ مشوری شریف کے حضرت پیر محمد قاسم مشوری، بھرچونڈی شریف  کے بزرگ پیر عبدالخالق ،

استاذ العلماء مولانا محمد صالح مہر، علی بخش لغاری، محمد حیات جونیجو، محمد موسیٰ وسان، فقیر محمد بچل خاصخیلی، ملوک فقیر مہر، محمد رحیم مہر، خلیفہ احمد فقیر لغاری  دیگر احباب نے مختلف اوقات میں  وفود کی صورت میں  گورنر سندھ شیخ دین محمد کشمیری سے ملاقات کر کے گدی کی بحالی پر زور دیا۔ گورنر صاحب خانقاہ چناہ شریف کا مرید تھا، ان کی ہمدردیاں بھی   حرجماعت کے ساتھ تھی۔

ان کوششوں کے نتیجہ میں جب  حضرت چھٹ دھنی بادشاہ اور ان کے  برادر  پاکستان تشریف لے آئے تو ان  کی آمد سے چھ دن قبل  قائد ملت لیاقت علی خان شہید ہو چکے تھے ، آپ سب سے  اول ان کی  گھر تعزیت کے لئے گئے۔ 

دوسری طرف برطانوی حکومت  کی پالیسی پر  حکومت سندھ نے گدی کی بحالی سے قبل طویل  شرائط پر مبنی ایک فہرست بھی بھیج دی کہ آپ کو یہ نہیں کرنا ، وہ نہیں کرنا۔ حضرت چھٹ دھنی بادشاہ نے یہ شرائط نہیں مانے ، گورنر کشمیری  نے  غیر مشروط  طور گدی کی بحالی کا اعلان کیا۔

تاجپوشی:

حرجماعت  میں اسلامی    روایت مطابق   وصال پانے والے بزرگ کی تدفین سے قبل ہی اپنے مرشد کے انتخاب کا فیصلہ کر کے اسے گدی پہ بٹھایا  جاتا ہے ، پھر اسی کی نگرانی میں وصال پانے والے بزرگ کی تدفین کی جاتی ہے۔ حرجماعت کے انتظامی امور  کے لئے 16 خلفاء ہیں ، جن میں 12 کا تعلق سالم جماعت اور 4 کا تعلق فرق جماعت سے ہوتا ہے۔(سالم اور فرق کا بحث آئندہ صفحات میں  بیاں ہوگا) ،  ان خلفاء کی مشاورت سے نئے پگاڑا کا انتخاب ہوتا ہے۔

اس خانقاہ کے سجادہ نشیں “پگاڑا” (پگڑی والے ، صاحب دستار) کے نام سے موسوم ہوتے ہیں ، اس کا پس منظر کچھ اس طرح ہے:

سندھ کے ایک معروف نقشبندی بزرگ مخدوم محمد اسماعیل پریالوی علیہ الرحمۃ کو مراقبہ میں حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی محفل اقدس کی حاضری کا شرف ملتا تھا۔ ایک بار حضرت پیر سید محمد بقا شاہ پٹ دھنی علیہ الرحمۃ بھی اس محفل میں شریک ہوئے، درباررسالت مآب  ﷺسے پگڑی مبارک (دستار) عنایت ہوئی۔

حضرت سید محمد بقا نے دین اور طریقت کی یہ پگڑی اپنے فرزند امام العارفین حضرت سید محمد راشد روزہ دھنی علیہ الرحمۃ کے طرف منتقل کی ، آپ کے وصال (1234ھ) کے بعد  آپ  کے اولاد میں سے بڑے بیٹے سید صبغت اللہ شاہ اول کو یہ پگڑی ملی ، تو آپ اول پگ وارو (پگڑی والے) کے نام سے مشہور ہوئے ، آپ کے دوسرے برادر پیر محمد یاسین کو وراثت میں جھنڈا ملے تو اول جھنڈہ والے (صاحب العلم) مشہور ہوئے۔

حضرت سورہیہ کے صاحبزادگان کی  وطن واپسی نے حرجماعت میں نئی روح پھونک دی۔ امید کی کرنیں قریب سے دکھائی دینی لگی، دس سال کے  طویل تعطل کے بعد خانقاہ کے رنگ نکھرنے لگے۔ 4 فروری 1952 کو خانقاہ شریف کی جامع مسجد کے ممبر پر  حضرت سورہیہ کے نوجوان صاحبزادہ   جلوہ فگن تھا، دیدار کو ترستی ہوئی حرجماعت کی  آنکھوں نے دس سال سے ان لمحات کا  بے تابی سے انتظار کیا تھا۔ عالمی شہرت یافتہ اسکالر (اس خانقاہ کے مرید) حضرت چھٹ دھنی بادشاہ کے علی گڑھ  مسلم یونیورسٹی کے ساتھی ، ڈاکٹر نبی  بخش خان بلوچ نے ، ساتویں پیر پگاڑا  کے طور  حضرت پیر سید شاہ مردان شاہ ثانی کا اعلان کیا تو خانقاہ کی فضا “بھیج پگارہ” کے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھی۔

سب سے اول  چناہ شریف کے جانشیں پیر سید افضل شاہ گیلانی، پھر برادر میاں نادر علی  شاہ، سید علی شاہ راشدی ، راشدی خاندان کے معززین پھر ملک بھر سے آئے ہوے معزز مہماناں نے دستار بندی کے(بل دینے کی)  رسم میں شرکت کی۔ اس کے بعد حرجماعت  کی روایت موجب  خلفاء میں سے  غازی فقیر منگریو ( چوکی جیسلمیر) فقیر خالقڈنہ کیریہ ( چوکی نارہ) ملوک فقیر پہوڑ (چوکی بان) کمال فقیر راجڑ ( چوکی اچھڑو تھر) عیدل فقیر نہڑی (چوکی کھاہوڑ)  الھبچایہ فقیر وکیہ (چوکی کلیاں) فقیر عبدالحمید انڑ  (چوکی شہدادپور) فقیر فتح محمد چھچھر  (چوکی کھتہ) حضور بخش گاہو (چوکی گاہکی)،

فقیر ولی محمد گاڈیوان (چوکی لاڑ) فقیر میر محمد بھیہ (چوکی پار) احمد فقیر لغاری (طریقہ  وریامانی)، سرائی سانون خان  نظامانی (طریقہ نظامانی) ملوک فقیر مہر (طریقہ  یوسفانی) اور  خلیفہ عبداللطیف سلاوٹی  (طریقہ سلاوٹ) اور دیگر میں سے رئیس  محمد حیات جونیجو ، رئیس علی مراد خاں سنجرانی ، میر راج محمد ٹالپور  اور علی خان سنجرانی نے اپنی پگڑیاں  (دستاریں) پیش کی۔ یاد رہے کہ حرتحریک کے دوران انگریز سے وفاداری کرنے والے راشدی برادراں پیر علی محمد راشدی اور پیر حسام الدین راشدی اس محفل کے شرکاء  تھے ، بلکہ حسام الدین راشدی نے تو ڈاکٹر بلوچ صاحب کے ساتھ نظامت بھی کی تھی۔  

نوٹ:  چوکی  اور طریقہ یہ حر جماعت کے اصطلاح ہے ، متعلقہ علاقہ جات کی جماعت  کی نمائندگی کرنے والے کو خلیفہ اور مکھ اور علاقہ کو  چوکی کہتے ہیں، ہر ایک خلیفہ اپنے کئی اسسٹنٹ کے ساتھ جماعت کی دیکھ بھال کرتا ہے اور مقرر ماہ پر خانقاہ شریف کے خدمت کے لئے جماعت کے ساتھ ہر سال  حاضر ہوتا ہے۔

شادیاں اور اولاد:

حضرت پیر سید شاہ مردان شاہ نے ، پہلی شادی مخدوم الملک غلام میراں شاہ (ملتان) کی صاحبزادی سے 1953 ع میں  کی، جس سے تین فرزند حضرت پیر سید صبغت اللہ شاہ پیر پگارا ہشتم المعروف  “راجہ” ، پیر  سید علی گوہر شاہ  راشدی (سابق وفاقی وزیر ) ، پیر سید صدرالدین شاہ راشدی (وفاقی وزیر  اوورسیز پاکستانیز) اور دو صاحبزادیاں ہوئی۔  دوسری شادی اپنی خاندان میں سید  محمود شاہ راشدی کی صاحبزادی سے 1996 ع میں کی جس سے ایک فرزند سید حزب اللہ شاہ راشدی اور دو  صاحبزادیاں ہوئی۔

حج اور عمرہ کی سعادت:

سنہ 1968 میں  حضرت چھٹ دھنی بادشاہ فریضہ حج  کے لئے مکہ مکرمہ گئے ، اس وقت یہ بات بہت کم لوگ  جانتے تھے کہ پیر صاحب کہاں ہے ،  وہاں مکہ مکرمہ اورمدینہ  منورہ میں اپنے آپ کو  چھپا رکھا ، ہمہ وقت عبادت الاہی میں مصروف  رہتے ۔ علامہ سید شبیر الہاشمی نے حضرت چھٹ دھنی بادشاہ کو  مدینہ منورہ میں  اکثر فوٹ پاتھ پر دیکھا۔   حضرت چھٹ دھنی بادشاہ کے اس سفر پر علامہ صاحب نے ایک بہت معلوماتی اور عمدہ کالم لکھا ہے۔ دو مرتبہ عمرہ کی سعادت حاصل کی۔ ایک بار سنہ 1991 میں۔ دوسری بار کا وقت معلوم نہیں ہوسکا۔ میرے ناقص علم مطابق حضور سرور کائنات  فخر موجودات صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایک حج اور دو عمرے کیے۔ حضرت  پیر صاحب نے یہ سنت ادا کی۔

وصال مبارک:

22 نومبر کو دھوم دھام سے ہنستے مسکراتے ہوئے اپنی زندگی کی آخری سالگرہ منا کر، علاج کے لئے  آغا خان ہاسپیٹل میں ایڈمٹ ہوئے ،جسم میں بڑہتے ہوئے  انفیکشن پر کنٹرول نہ ہونے  کی وجہ سے  حضرت چھٹ دھنی بادشاہ کو  خصوصی طیارہ میں لندن لایا گیا ، جہاں  لیڈی ویلنگٹن ہاسپیٹل میں زیر علاج رہے۔ اسی ہسپتال میں بتاریخ 10 جنوری 2012 مطابق 16 صفر المظفر1433 ھ  کو اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔  وہاں سے  جسد اقدس کو  پاکستان لایا گیا، پیر جو گوٹھ خیرپورسندھ میں  اپنے بزرگوں کی پہلو میں مدفون ہوئے۔

خدمات:-

(حضرت چھٹ دھنی بادشاہ کی خدمات کا دائرہ نہایت وسیع ہے ، علمی، ادبی، دینی، فلاحی، رفاہی ، سیاسی ، عسکری  میدانوں میں حضرت چھٹ دھنی بادشاہ نے   تن تنہا کئی اداروں سے بڑھ  کر کام کیا۔  خدمات کی اس تفصیل  میں سب سے اول علمی و دینی خدمات کا    اختصار عرض ہے ، ان میں بھی فقط ایک علمی و دینی ادارہ جامعہ راشدیہ اوردینی مدارس    کا ذکر کیا جاتا ہے ، باقی  آئندہ  صحبت میں۔)

علمی و دینی خدمات:

حضرت پیر سید شاہ مردان شاہ نے 1952 میں سجادہ نشیں ہوئے تو  آپ کے سامنے بہت ہی بڑے چئلنجز تھے ، گدی تو  حر جماعت کی کاوشوں سے بحال ہوگئ مگر 1921 سے لیکر آزادی تک انگریز سامراج نے خانقاہی نظام  کو اپنی مرضی موجب کرنے   اور انکے متوسلیں کو بری طرح  تہس نہس کرنے کا تہیہ کر  رکھاتھا ،  حر نام کو دہشت کی علامت سمجھ کر  اس کا وجود ملیامیٹ کرنے پر تلا  ہوا تھا۔

اس دور میں مجاہد اعظم سید  صبغت اللہ شاہ تحریک آزادی کی پاداش میں کبھی نظر بند ، کبھی قید، تو  “حرتحریک” کے غازی بھی   گھروں سے دور جنگلوں میں  رہنے پر مجبور ہوئے، انکی املاک ضبط کی گئ، زمینیں  چھین کر انگریز کے وفادار لوگوں کو عطیہ کی گئی، گھر جلائے گئے ۔ کمزور ، ضعیف العمر حضرات، خواتیں اور بچوں کو  کنسٹریشن کئمپس میں  رکھا گیا۔ تھانہ میں روزانہ حروں کی  حاضری  مقرر کی گئی۔1942 میں بدنام زمانہ حرایکٹ نافذ کردیا گیا، ہر مجرم کی برائی حروں کے کھاتے میں ڈال کر ان پر ظلم و ستم اور تشدد کا جواز پیدا کرلیا   گیا۔  

اب حضرت چھٹ دھنی بادشاہ سید شاہ مردان شاہ  کے پاس  خانقاہ کی تعمیر نو، حر جماعت کی ترقی ، خوشحالی، از سر نو انکو اپنی گھروں میں آباد کرنا، جھوٹے مقدمات  سے نجات دلانا اور گرفتار  حروں کی رہائی اہم مسائل تھے۔  اپنی مرضی کی تعلیم دینے سے انگریز نے سمجھا تھا کہ یہ پگاڑا ، اپنی خاندانی روایات سے ہٹ کر ہم سے  رسم وفا نبھائیں گے، مگر یہ انکی بڑی بھول تھی، جس کی رگوں میں  حسینی خون ہو، بیٹا سید صبغت اللہ شاہ کا ہو وہ کیسے کسی یزید وقت سے سمجھوتہ کر سکتاتھا۔

حضرت چھٹ دھنی بادشاہ نے فرور ی میں گدی سنبھالی ، ٹھیک اسی دن سے خانقاہ  اور حر جماعت کی تعمیر میں مصروف ہوئے،  حروں پر من گھڑت   مقدمات  کا مطالعہ کیا،  حکومت سے بات چیت کر کے 4 اپریل 1952  کو   کنسٹریشں کئمپس ختم کروائی۔   کنسڑیشن کئپمس کے خاتمہ کا  اعلان سنتے ہی  رات  کو  بارہ  بجے حر آزاد ہوکر اپنے گھروں کے طرف روانہ ہوئے۔  اس وقت  سندھ کے مختلف مقامات جھول،سنجھورو، میرپورخاص، جوہی ، جروار وغیرہ پر حروں کے لئے کنسٹریشن  کئمپس تھے۔

قید حروں کی رہائی کے بعد حضرت چھٹ دھنی بادشاہ نے  سیکنڈاسٹیپ طور  خانقاہ پر تعلیم کے لئے دینی ادارہ کے اجراء کا حکم جاری فرمایا۔ خوش قسمتی سے اس وقت شہر کے کچھ مخیر حضرات نے دینی ادارہ قائم کر رکھا تھا، جس میں نبیرہ اعلی حضرت مولانا تقدس علی خاں بریلوی مدرس تھے ۔ حضرت چھٹ دھنی بادشاہ کے حکم اور  مولانا محمد صالح مہر  ( جو اس خانقاہ کا خطیب، صادق مرید تھا) کی کوششوں سے وہ ادارہ خانقاہ کے طرف منتقل ہوا۔ 

حضرت چھٹ دھنی بادشاہ کے دادا ،  شمس العلماء حضرت پیر سید شاہ مردان شاہ اول پگاڑا پنجم نے  اپنے دور میں مدرسہ قادریہ کے نام سے ایک دینی ادارہ کا اجراء کیا تھا، جس میں  مولانا مفتی سعداللہ خیرپوری (قاضی القضاۃ ریاست خیرپور) ، مولانا عبدالرحمان دھامراہ، مولانا میرمحمدٹالپر،مولانا میر محمد کھاہوڑی  مولانا محمداحمد ڈاہری اور دیگر علماء مدرس تھے ، تحریک کے ایام میں دیگر سلاسل کے ساتھ یہ ادارہ بھی تعطل کا شکار ہوگیا۔ حضرت چھٹ دھنی بادشاہ  نے اپنے جد امجد سید محمد راشد روزہ دھنی قدس سرہ کی نسبت سے “جامعہ راشدیہِ” کے نام سے اجراء کیا۔ 

مولانا مفتی تقدس علی خان(جو حضرت پیرصاحب کے اتالیق بھی بنے) ، مولانا محمد صالح مہر  ( تادم حیات    خانقاہ کی  امامت، ادارہ کا انتظام  بغیر کسی معاوضہ  سرانجام دیا۔) اور ایک دیگر ، تین اساتذہ  مقرر ہوئے۔  حرجماعت کے طرف حضرت چھٹ دھنی بادشاہ نے اس وقت کچھ یوں حکم جاری کیا۔

“بعد سلام مسنون واضح ہو کہ عام جماعت کی بی علمی اور جہالت کی وجہ سے ہم نے خانقاہ کے قدیمی مدرسہ کو جامعہ راشدیہ کے نام سے جاری کیا ہے ، جس میں فی الحال تین عالم مقرر ہیں، جو قرآن و حدیث اور فقہ کی دینی تعلیم عربی،فارسی،اردو اور سندھی زباں میں دے رہے ہیں، سفیر مدرسہ عبدالغنی کلہوڑہ  کو مقرر کیا گیا ہے ، جماعت میں سے مخیر حضرات  اپنی زکوٰۃ ، صدقات اور خیرات اس مدرسہ کو دیکر دعا کے مستحق ہوں۔”

حضرت چھٹ دھنی بادشاہ کے اس مختصر حکم سے ، اپنی جماعت کی بحالی ، ترقی ،  تعلیم و تربیت کی تڑ پ کا اندازہ آسانی سے لگایا جاتا ہے۔  حضرت پیر صاحب کے  خلوص  اور  فیاضی کے باعث جامعہ  راشدیہ نے ملک بھر میں  شہرت حاصل کی ، نہ صرف  ملک کے مختلف علاقہ جات سے  تشنگان علم ، اس  چشمہ فیض پر امنڈ پڑے  مگر وقت کے مقتدر اور جید علماء نے  اس مبارک خانقاہ  اور حضرت چھٹ دھنی بادشاہ  جیسی عظیم المرتبت اور فیاض شخصیت کے سایہ عاطفت میں علم کی آبیاری  اپنے لئے اعزاز سمجھا۔

چنانچہ سندہ مدرسۃ الاسلام کے ملازمت چھوڑ کر مفتی اعظم محمد صاحبداد خان جمالی، جامع المعقول والمنقول سید حسین امام اختر، علامہ عبدالصمد میتلہ اور دیگر علماء  نے جامعہ راشدیہ میں تدریس کا منصب سنبھالا۔  اس وقت سے جامعہ راشدیہ کے  طالب العلم مشرقی علوم اور دیگر امتحانات میں سندھ سطح پر  پوزیشن ہولڈر رہے، حسن قرات، حسن نعت، حسن تقریر،  مقابلہ مضمون نویسی میں جامعہ راشدیہ کے  فیض یافتگان  ، سب سے بازی لے گئے ۔  مدرسین اور طالبعلموں کی  خورد و نوش ، میڈیکل، کتاب ،قلم ، امتحانی فیس، وظیفہ اور دیگر اخراجات  خانقاہ کا ذمہ تھا۔ 

مولانا محمد صالح مہر کا  دور اہتمام 1952 سے لیکر 1976 تک تھا، اس دور میں جامعہ راشدیہ سے   بہت  مقتدر علماء کرام  فارغ التحصیل ہوئے۔  حضرت چھٹ دھنی بادشاہ کے عرفی نام سید سکندرعلی شاہ کی نسبت سے علماء کرام کو سکندری   نسبت دی گئی ،  ہزاروں کے تعداد میں علمائے کرام ، حفاظ عظام   جامعہ راشدیہ کے فیض یافتہ ہیں۔  جامعہ راشدیہ  کے حوالہ سے  حضرت چھٹ دھنی بادشاہ کا یہ  فرمان سنہری حروف میں لکھنے کے قابل ہے۔ حضرت چھٹ دھنی بادشاہ نے فرمایا: جماعت نے  مجھے جو سجادگی کی ذمیداری سونپی ، میں نے جامعہ راشدیہ کھول کر وہ   فرض ادا کردیا۔

جامعہ راشدیہ کے اجراء اور کامیابی کے بعد حضرت چھٹ دھنی بادشاہ کے حکم سے  حر جماعت کے مراکز میں ادارہ جات قائم کرنے کا سلسلہ شروع ہوا، سانگھڑ، شہدادپور، شاہپورچاکر، کھپرو، عمرکوٹ، پنگریہ اور دیگر مقامات پر  مدارس  حضرت پیر سید صبغت اللہ شاہ  ثانی  کی نسبت سے  صبغۃ کے نام سے  تعمیر ہوئے۔

1976 سے قبل ہی حضرت چھٹ دھنی بادشاہ نے حکم دے رکھا تھا کہ مولانا محمد صالح آپ اپنا جانشیں تیار کر جانا ، جو آپ کے بعد جامعہ راشدیہ کا انتظام سنبھالے، تو مولانا محمد صالح مہر نے جامعہ راشدیہ کے ہونہار  طالب العلم  (شیخ الحدیث، حضرت مولانا ) مفتی محمد رحیم سکندری کا  انتخاب کیا تھا۔  حضرت مفتی صاحب کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ ایک ماہ سے بھی  کم عرصہ میں  قرآن پاک حفظ کیا۔ مفتی صاحب   1976 سے تاحال جامعہ راشدیہ کا  مہتمم ہے۔   کچھ مدت کے لئے درگاہ فیصلہ کمیٹی کے چیئرمیں حافظ اسداللہ مہر سکندری اور   خطیب اسلام   شیخ الحدیث مولانا مفتی عبدالرحیم سکندری نے بھی جامعہ کے منتظم رہے تھے۔

حضرت چھٹ دھنی بادشاہ کے وصال تک جامعہ کا نیٹ ورک 300 سے قریب مدارس  جس میں مدرسہ صبغۃ  الاسلام سانگھڑ، مدرسہ صبغۃ  الفیض سومر ہنگورہ، مدرسہ صبغۃ  الہدیٰ شاہپورچاکر، مدرسہ صبغۃ  النور کھپرو، مدرسہ صبغۃ  القرآن سنجھورو، مدرسہ صبغۃ  العرفان ڈھرکی،  مدرسہ صبغۃ الانوار عمرکوٹ،مدرسہ سکندریہ قادریہ  نوشہرہ فیروز،  تھرپارکر، بدین، میرپورخاص، حیدرآباد، مٹیاری،  ٹنڈہ الہیار، نوابشاہ ، خیرپور، سانگھڑ ، عمرکوٹ، سکھر،گھوٹکی، لاڑکانہ، دادو، شکارپور، جیکب آباد، رحیم یار خان،  جعفرآباد، سندھ ، بلوچستان اور پنجاب کے مختلف علاقہ جات میں دینی مدارس  کا  تسلسل ہے۔ 

ریکارڈ موجب  1959 سے 2010 تک  687  علمائے کرام “شہادۃ  العالمیہ ” (ماسٹر ڈگری) اور 1980 سے  2010 تک  1600 کے قریب حفاظ کرام ( 1952 سے 1979 تک حفاظ کا ریکارڈ نہیں مل سکا۔) فارغ التحصیل  ہوئے۔   ہرسال  27 رجب المرجب کی تقریب میں فارغ التحصیل علمائے کرام کی دستاربندی ہوتی ہے اور  حضرت چھٹ دھنی بادشاہ خود اپنے ہاتھوں سے اسناد تقسیم کرتے تھے ، ہرایک  سے مصافحہ کرتے، خوش طبعی کرتے تھے، آخر میں اختتامیہ خطاب کرتے جس میں علمائے  کرام کو نصیحت کرتے تھے کہ تمہاری عزت خانقاہ کی عزت ہے ، اساتذہ نے تم پر بہت محنت  کی ہے ، امید ہے کہ آپ خانقاہ کا نام روشن کریں گے۔ انکے ساتھ  سکھاتے تھے کہ لوگوں کو راہ راست پر کیسے لایا جا سکتا ہے۔

جامعہ راشدیہ کے علمائے کرام ، خانقاہ مبارک کی تعلیم و تربیت اور  زیرسایہ ملک کے طول و عروض میں  بطور خطیب و امام، مدرس، معلم، مبلغ و مصلح   دین اسلام کی اشاعت میں  مصروف ہیں تو دوسری طر ف  مختلف تعلیمی اداروں میں بحیثیت لیکچرر، پروفیسر، دانشور، اسکالراور عالم کے  ایک دنیا کو علمی فیض سے بہرہ مند کر رہے ہیں،  علمائے سکندریہ میں محقق، مصنف، ادیب، فلاسافر، ٖ  وکیل ، قانوندان، منصف ،انتظامی آفیسر  اور صحافی بھی ہیں۔ علمائے سکندریہ  کی فہرست میں ملک کے مقتدر اور جید  علماء کے نام ہیں۔

جامعہ راشدیہ حضرت چھٹ دھنی بادشاہ  کی فیاضی کا رہین منت ہے۔ پیر صاحب نے  جامعہ راشدیہ کے اساتذہ،   تلامیذ اور علمائے کرام کو ہر طرح کی سہولت  میسر کی ، انکی خواہشات   کا بہت  خیال رکھا۔  میں نے جو اپنے بزرگ اساتذہ سے سنا اور خود میں  نے جامعہ راشدیہ میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے حضرت چھٹ دھنی بادشاہ کے جو احسانات دیکھے ، وہ بڑا تفصیل ہے .

جامعہ راشدیہ نے علمی و عملی میداں میں خدمت سرانجام دی ، جامعہ کے علماء نے  درس و تدریس، تعلیم و تربیت، تصنیف و تالیف، تبلیغ و اصلاح کی جو خدمات کی ، یہ باب ، ایک مستقل کتاب کا متقاضی ہے ، یہ تفصیل بھی آ ہی جائے گا۔ جس مقصد سے حضرت چھٹ دھنی بادشاہ نے جامعہ کا اجراء کیا تھا ، الحمدللہ   جامعہ نے اپنے اہداف میں بھرپور کامیابی حاصل کی، حرجماعت اور دیگر مسلمانوں کی علمی ،عملی شعور اور دینی تربیت اور اصلاح میں کئی اداروں سے بڑہ کر  کام کیا۔

Leave a Comment