شمس العلماء حضرت پیرسید شاہ مردان شاہ اول کوٹ دھنی ، خانقاہ راشدیہ کے پانچویں سجادہ نشین تھے۔ آپ کی مبارک زندگی پر تفصیل اس طرح ہے۔
ولادت ونسب:
حضرت پیرسید شاہ مردان شاہ اول کوٹ دھنی 7 صفرالمظفر 1279 ہجری مطابق 4 اگست 1862ع ۔۔۔ پیرجوگوٹھ پیرپگاڑا سوم پیر سید حزب اللہ شاہ کے گھر پیدا ہوئے۔ اپنے بھائیوں میں چوتھے نمبر پر تھے۔
اسم گرامی والقاب:
سید شاہ مردان شاہ اول نام تھا۔ کوٹ دھنی ( خانقاہ کے گرد قلعہ نما کوٹ تعمیر کروایا ، جس چودیواری کوٹ کی بیرونی دیواریں ۴۰فٹ اونچی اور ٢۰فٹ چوڑی تھیں۔ چوڑائی کے متعلق روایت عام تہی کے اس پر دو بیل گاڑیاں ایک ساتھ سفر کرسکتی ۔) اور شمس العلماء لقب تھے۔
تعلیم و تربیت:
پیر سید شاہ مردان شاہ اول کوٹ دھنی نے قرآن و حدیث کی تعلیم اپنے والد گرامی سے حاصل کی۔ تاہم حضرت پیرسید شاہ مردان شاہ اول کوٹ دھنی کے اساتذہ میں مولانا نبی بخش کولاچی (جو علامہ مفتی عبدالغفور ہمایونی کا تلمیذ رشید تھا) کا نام بھی آتا ہے۔
بیعت:
سلسلہ قادریہ میں آپ نے اپنے خانوادہ کے مرشد سید محمد شاہ جیلانی ( چناہ شریف) سے بیعت ہوئے۔
مسند نشینی:
برادر اکبر سید علی گوہر شاہ کے وصال کے بعد ان کی وصیت موجب 27 جمادی الاخری 1314 ھ 4 دسمبر 1896 ء کو 35 سال کی عمر میں پیر پگاڑہ پنجم کی حیثیت میں مسند نشین ہوئے۔
پیر سید حزب اللہ شاہ تخت دھنی کے چار فرزند تھے۔ سب سے پہلے بڑے بیٹے سید علی گوہر شاہ مسند نشین ہوئے ۔ اپنے بھائیوں میں علم و فضل میں سب سے بڑہ کر اپنے چوتھے برادر کے لئے سجادگی کی وصیت فرمائی۔ لیکن پیر سید شاہ مردان شاہ اول کے بڑے بھائی نے سجادہ نشینی کی دعوی کی اور مقدمہ کچہری میں پیش کیا۔
یہ وہ دور تھا جب پیر پگارا پنجم کو انگریز سامراج کی مخالفت کے ساتھ اپنوں سے نبرد آزمائی کرنی پڑی، سجادگی کا مسئلہ کورٹ میں حل کرنے کے لئے حضرت پیرسید شاہ مردان شاہ اول کوٹ دھنی نے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کو اپنا وکیل مقرر کیا۔ تین سال کے بعد 1899 ء میں مقدمہ پیر صاحب کے حق میں آیا۔
شادی و اولاد:
حضرت پیرسید شاہ مردان شاہ اول کوٹ دھنی نے کتنے نکاح فرمائے۔ اس متعلق کوئی حتمی روایت نہیں مل سکی۔ تاہم ایک سے زائد شادیوں کا ذکر ملتا ہے۔ پہلی شادی سے سید حسین علی شاہ پیدا ہوئے۔ دوسری شادی آپ نے گوٹھ نودیرو کے پیر سید محمد مجتبیٰ شاہ راشدی رحمت اللہ علیہ کی بیٹی سے کی۔ جس سے سید صبغت اللہ شاہ ثانی پیدا ہوئے۔
قلمی ملفوظات میں روایت ہے کہ حضرت پیر سائیں کوٹ دہنی نے نوڈیرہ سے شادی کی۔ اس کے بعد لاڑ پھر تھر کے سفر میں تھے تو پیر سائیں سید صبغت اللہ شاہ کی ولادت ہوئی۔ یہ خوشخبری بڑے صاحبزادہ سید حسین علی شاہ نے اپنے والد گرامی کو سنائی تو حضرت پیرسید شاہ مردان شاہ اول کوٹ دھنی بہت خوش ہوئے اور فرمایا اللہ کا شکر جو حضرت روضہ دہنی کا وارث بھیجا۔
سید حسین علی شاہ نے والد گرامی کو خوش پا کر عرض کی۔ حضور! ہم بھی اس صاحبزادہ کی جوتیاں سیدھی کریں گے۔ تو آپ نے فرمایا، مہربان! یہ خدمت تمہیں میسر نہیں ہونگی۔ پھر جلد ہی جوانی میں سید حسین علی شاہ رحلت فرماگئے ۔ جس کے ناگہانی فراق پر والد گرامی کو بڑا صدمہ پہنچا۔ اسی وجہ سے آپ بیمار ہوئے اور وصال فرماگئے۔
اور تیسر ا فرزند سید راحم علی شاہ ۔۔ایک شادی 1907 یا 1908 ء میں شہدادپور کے قریب قصبہ کامل لغاری میں محبت فقیر لغاری کی دختر سے ہوئی۔ یہ غالبا تیسری شادی تھی ۔ حضرت سورہیہ بادشاہ کی ولادت وقت حضرت پیرسید شاہ مردان شاہ اول کوٹ دھنی تھر کے سفر میں تھے، اس حوالہ سے راقم کو ماسٹر مرحوم رمضان علی راجڑ ہیلاریو نگر پارکر والے نے بتایا کہ ہمارے بڑے کہتے تھے کہ تھر میں ہیرار کے مقام پر آپ کو یہ بشارت ملی۔
ذاتی اوصاف و کردار:
اپنے بزرگوں کی طرح پیر صاحب بڑے صاحبدل تھے۔ عبادت زہد و تقوی کے علاوہ فیاضی ، ۔۔۔۔ اپنے ارد گرد کے غرباء اور مساکین کی خبرگیری رکھتے تھے۔ علاقہ کے مستحقین کی ایک فہرست بنی ہوئی تھی ، جس کی ہرحال میں مالی معاونت ہوتی تھی۔
سندھ میں ایک بار قحط پڑا تو حضرت پیرسید شاہ مردان شاہ اول کوٹ دھنی نے دل کھول کر غریبوں کی مدد کی۔ خانقاہ شریف سے کئی دور تک اناج اور کپڑے لوگوں میں تقسیم کروائے۔ یہاں تک کہ کپڑے کے ساتھ سوئی دھاگہ بھی شامل کروایا۔ دیگر مواقع پر اپنے مریدیں اور دیگر مسلمانوں کی دل کھول کر مدد کرتے تھے۔ ایک مرتبہ 500 لوگوں کو اپنے خرچہ پہ حج پر لے جانے کی تیاری کی۔ جہاز نہ ملنےکے باعث آپ حج پر نہ جاسکے تو وہ ساری رقم خیرات کردی۔
حضرت پیرسید شاہ مردان شاہ اول کوٹ دھنی نے سندھ میں زریں روایت کا آغاز کیا۔ علم اور علماء کی قدردانی کی۔ انہیں ہر طرح کی تعظیم و تکریم کے ساتھ انعامات سے نوازا۔ علمائے کرام میں مفتی عبدالغفور ہمایونی۔۔۔۔ دیگر حلقہ احباب میں رہے۔ خانقاہ پر رجب المرجب کے موقع پر علماء کو مدعو کیا جاتا تھا، سہ روز تقریب میں علمائے کرام حر جماعت کو وعظ و نصیحت کرتے تھے اور پیر صاحب علمائے کے لئے پر تکلف طعام و لباس اور ہدیہ بھی پیش کرتے ۔

جامعہ قادریہ کا اجراء:
پیر صاحب کے نمایاں کارنامون میں خانقاہ شریف پر دینی علوم کے لئے جامعہ قادریہ کی تعمیر اور اجرا ء ہے۔ ( وہ عمارت ابھی تک قائم ہے) جس میں حضرت پیرسید شاہ مردان شاہ اول کوٹ دھنی نے اس وقت کے ممتاز علماء کو تدریس کے لئے مقرر کیا۔ مولانا مفتی سعداللہ خیرپوری (قاضی القضاۃ ریاست خیرپور) ، مولانا عبدالرحمان دھامراہ، مولانا میرمحمدٹالپر،مولانا میر محمد کھاہوڑی مولانا محمداحمد ڈاہری اور دیگر علماء مدرس تھے۔
اساتذہ اور طلباء کے لئے وظیفہ اور مکمل اخراجات پیر صاحب خود ادا کرتے تھے۔ اس جامعہ سے فارغ التحصیل علمائے کرام کو اپنے علاقوں میں مکتب تعمیر کروادیتے اور ان کا وظیفہ بھی خود ادا فرماتے۔
حضرت سلطان الواعظین استادی علامہ مفتی عبدالرحیم سکندری کے بقول شمس العلماء حضرت شاہ مردان شاہ اول ( کوٹ دھنی )رحمتہ اللّہ علیہ ہر سال سات تاریخ کو حویلی شریف میں عرس مبارک فرماتے تھے, اور اس عرس مبارک کے موقع پر آپ دنیا سے تشریف لےگئے
. ۰٧ ستمبر سنہ ١٩۴٢ع، انگریز انتظامیہ نے پیرگوٹھ میں پیر پگاڑا کی تمام جائیدادیں ضبط کردیں. گزشتہ ماہ ٢٢ تاریخ کو درگاہ شریف کے چودیواری موجود قیمتی سامان کو نکالنے کا کام شروع کردیا گیا تھا. سید شاہ مردان شاہ اول کے تعمیر شدا جامعہ راشدیہ کے مدرسے اور لئبریری کو ڈائنامینٹ سے ختم کردیا گیا، لئبریری میں موجود قیمتی نواردات اور کتابیں سندھ کے بیرونی شہروں میں بھیج دی گئیں۔
درگاہ شریف کے چودیواری کوٹ کو کرینوں سے ختم کیا گیا، اس آپریشن میں متعدد مسلمان آفیسروں کے ساتھ غیر مسلم لوگوں نے بھی حصہ لیا۔ روضہ اور مسجد محفوظ رہے ، جبکہ گردو نواح کے مکانات کو معمولی نقصان پہنچا، جس پر انجنیئروں کی مہارت اور سنبھال کو داد دینی پڑتی ہے ۔
کوٹ کے اندر سے جو اناج کے زخیرے ملے وہ حیدرآباد منتقل کئے گئے، پائیپ اور لوہے کی سیخیں وغیرہ کو CIA سندھ ڈسٹرکٹ کے اسٹور منتقل کیا گیا۔ درگاہ شریف سے ملنے والی پیر صاحب کی پوری پراپرٹی کی لسٹ بنائی گئی اور وہ پراپرٹی کچھ سکھر اور کچھ حیدرآباد بھیج دی گئیں۔ کوٹ کے اندرسے ملنے والی لکڑی کو وہیں پر چھوڑ دیا گیا۔
بعد میں پیر صاحب کے بنگلہ (کوٹھی) کو بمباری سے ختم کردیا گیا۔ جو پیر پگاڑا کی خصوصی رہائشگاہ تھی۔ پیر پگاڑا کی رہائشگاہ یعنی حویلی کا بنیاد پیر علی گوہر شاہ اول نے اکتوبر سنہ ١۸٣۴ع کو رکھا تھا، سنہ ١۸۴٧ع کو انکی وفات کے بعد انکے جانشین صاحبزادے پیر حزب اللہ راشدی نے اس بنگلے کا بقایا کام مکمل کروایا۔
پیر حزب اللہ شاہ نے اس بنگلے کی تعمیرات کیلئے اونٹوں کے ذریعے بھارت کے شہر جیسلمیر سے سنگمرمر کے پتھر منگوائے، جس کے استعمال سے یہ بنگلہ سردیوں میں گرم اور گرمیوں میں ٹھنڈا رہتا تھا، جس کے باعث حرجماعت کے لوگ اس بنگلے کو بہشتی بنگلہ بھی کہتے تھے ۔
پیر حزب اللہ شاہ راشدی، پیر علی گوہر شاہ ثانی، پیر شاہ مردان شاہ اول اور پیر صبغت اللہ شاہ ثانی اپنے سجادا نشینی کے وقت میں اس بنگلے کے اندر قیام فرماتے تھے، ہر پیر پگاڑا اس بنگلے کی بالکنی اور چبوترے سے مریدوں کو زیارت کرواتے اور روحانی جلسے سے خطاب بہی فرماتے تھے۔ یہ بنگلہ ایک صدی سے بھی زیادہ عرصے تک موجود رہا۔
اس بنگلہ کو ختم کرنے کے دوسرے سال پیر صبغت اللہ شاہ ثانی المعروف سورھیہ بادشاہ کو پھانسی دی گئی۔ تقسیمِ ہند کے ۰۵ برس بعد جب گدی بحال ہوئی تو پیر شاہ مردان شاہ ثانی نے سابقہ بنگلہ کی طرز پر موجودہ بنگلہ تعمیر کروایا۔
.
کتب کی اشاعت اور چھاپ خانوں کا قیام:
بڑے بھائی کے وصال کے بعد آپ سجادہ نشین ہوئے تو عمر مبارک 35 سال تھی، والد گرامی کی تربیت اور برادر اکبر کی معیت کی وجہ آپ خانقاہ کے متعلقہ مسائل اور ملکی حالات سے آگاہ تھے۔ اس لئے روز اول سے آپ نے اپنی فہم و فراست سے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی۔ حر تحریک کی وجہ سے کافی پروگرام معطل تھے۔
آپ نے ایک نئے زاویہ سے تحریک چلائی۔ جس میں دینی تعلیم و تربیت پر زور دیا گیا۔ جامعہ قادریہ کا اجراء، سال میں عیدین، ربیع الاول اور 27 رجب کے مواقع پر علمائے کرام کو مدعو کر کے لوگوں کو دینی مسائل سے آگہی کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ اہل علم کو عزت اور خلقت سے نوازا گیا۔ مدارس اور مکاتب کی بنیاد رکھی گئی۔
عام مسلمانوں کی تربیت اور دینی تعلیم سے واقفیت کے لئے ہزاروں کی تعداد میں کتب چھپوا کر مفت تقسیم کئے جانے لگے۔ جن میں تفسیر کوثر شاہ مردان شاہ، برکات النکاح و آفات الزنا، زکوات کی برکت اور دیگر دینی احکام، بیعت نامہ لہدایت المریدین، قاطع البدعۃ فی انتباہ الغافلین، تنبیہ الابطلہ فی حرمۃ مال ربویہ دیگر کتب شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف علاقوں میں آپ نے چھاپخانے بنوائے جہاں اپنے خرچ پر کتب تیار کروا کر مفت کتابوں کی تقسیم ہونے لگی۔

تعمیرات:
حضرت پیر سید شاہ مردان شاہ اول کوٹ دھنی نے کوٹ (قلعہ ) کے علاوہ جو تعمیری کام کروایا اس میں اپنے اسلاف کے روضہ اور مسجد شریف کے مناروں پر سونے کا عمدہ کام کروایا۔ روہڑی میں موئے مبارک آنحضرت ﷺ پر عالیشان گنبد، مخدوم محمد اسماعیل پریالوی کی مزار پر گنبد اور وہاں کے دیگر مسائل اور اخراجات اپنے ذمہ لئے ۔ مہمان خانہ ، مسافر خانہ ، جامعہ قادریہ کی تعمیر۔۔
وصال مبارک:
اپنے دور کے فیاض ،غریب پرور ، علم اور علماء کے محسن ، متقی اور پرہیزگار حضرت شمس العلماء شاہ مردان شاہ اول کوٹ دھنی کا وصال زہر خورانی کی وجہ سے 7 ربیع الاول 1339 ھ مطابق ۔۔۔کو ہوا۔ جناب سید ہدایت علی شاہ راشدی کی روایت موجب ، حضرت مفتی عبدالرحیم سکندری کے بقول شمس العلماء حضرت شاہ مردان شاہ اول ( کوٹ دھنی )رحمتہ اللّہ علیہ ہر سال سات تاریخ کو حویلی شریف میں عرس مبارک حضور اکرمﷺ فرماتے تھے،اور اس مبارک کے موقع پر آپ دنیا سے پردہ فرماگئے۔
نوٹ: اس مضمون کی تیاری میں (مفتی محمد رحیم سکندری، مفتی عبدالرزاق سکندری کے مضامین) جامعہ راشدیہ جا پنجاہ سال، جناب سید یاسر شاہ راشدی اور فقیر عبدالمنان لغاری کی پوسٹس سے مواد لیا گیا ہے۔