حضرت پیر سائیں سید محمد راشد، جو دنیا بھر میں روضہ دھنی کے لقب سے معروف ہیں، ان کی زندگی اور خدمات کا تفصیلی ذکر درج ذیل ہے۔
آپ کا نسبِ عالی اور خاندان
حضرت پیر سائیں روضہ دھنی کا نسبِ عالی 36 واسطوں سے حضور سید العالمین سرورِ کائنات ﷺ سے اس طرح متصل ہے: 1۔ حضرت پیر سائیں سید محمد راشد بن 2۔ پیر سائیں سید محمد بقا شاہ بن 3۔ پیر سائیں سید محمد امام شاہ بن 4۔ حضرت پیر سائیں سید فتح محمد شاہ بن 5- حضرت پیر سائیں سید شکر اللہ شاہ بن 6- حضرت پیر سائیں کھٹن شاہ بن 7- حضرت پیر سائیں سید سنجرشاہ بن 8- حضرت پیر سائیں بولن شاہ بن 9- حضرت پیر سائیں سید حسین شاہ بن 10- حضرت پیر سائیں سید میر علی شاہ بن
11- حضرت پیر سائیں ناصر الدین شاہ بن 12- حضرت پیر سائیں عباس شاہ بن 13- حضرت پیر سائیں سید فضل اللہ شاہ بن 14- حضرت پیر سائیں شہاب الدین شاہ بن 15- حضرت پیر سائیں بہاء الدین شاہ بن 16- حضرت پیر سائیں سید محمود شاہ بن 17- حضرت پیر سائیں سید محمد شاہ بن 18- حضرت پیر سائیں سید حسین شاہ بن 19- حضرت پیر سائیں چھکن شاہ بن 20- حضرت پیر سائیں سید علی مکی لکیاری بن
21- حضرت پیر سائیں سید عباس شاہ بن 22- حضرت پیر سائیں سید زید شاہ بن 23- حضرت پیر سائیں سید اسد اللہ شاہ بن 24- حضرت پیر سائیں سید عمر شاہ بن 25- حضرت پیر سائیں سید حمزہ شاہ بن 26- حضرت پیر سائیں سید ہارون شاہ بن 27- حضرت پیر سائیں سید عبداللہ شاہ بن 28- حضرت پیر سائیں سید حسین شاہ بن 29- حضرت امام علی رضا بن 30- حضرت امام موسیٰ کاظم بن 31- حضرت امام جعفر صادق بن 32- حضرت امام محمد باقر بن 33- حضرت امام زین العابدین بن 34- سید الشہداء حضرت امام حسین بن 35- سیدۃ النساء فاطمۃ الزہراء بنت 36- حضور سرورِ کائنات ﷺ۔

خاندان مبارک
حضرت پیر سائیں روضہ دھنی کے جملہ بزرگ چرخ ولایت و عرفان کے آفتاب برج ہدایت ایمان کے ماہتاب تھے ۔ چنانچہ سید علی مکی /جس سے آپ 19 واسطوں سے ملتے ہیں۔ یہ بزرگ عباسی خلفاء کے دور میں عراق کے شہر سامرہ سے اہلیان سندھ کو ایک ظالم ہندو راجا دلوراء کے مظالم سے نجات دلانے کی غرض سےپانچویں صدی ہجری کو سندھ میں آئے ۔ اسلامی لشکر نے راجا دلوراء کو شکست فاش دی، راجا قتل ہوگیا اور اس کے خاندان نے اسلام قبول کیا۔ راجا کی ایک بیٹی نے اپنی رضا سے سید صاحب سے نکاح کیا۔ پھر سید صاحب نے سیوھن کے قریب چشمہ ہارون پر لکی کے مقا م پر قیام کیا۔
آپ کے اخلاق و کردار سے متاثر ہو کر لوگ جوق در جوق حلقہ اسلام میں داخل ہونے لگے ۔ راجپوت سوڈھوں کی تمام قوم مسلمان ہوئی ، آپ نے ان راجپوتوں سے ایک شادی کی ، جس سے 4 فرزند 1۔ سید محمد شاہ 2۔ سید احمد شاہ 3۔ سید ابوبکر عرف چھکن شاہ 4۔ سید حاجی شاہ عرف شیخ بھرکیہ ہوئے ۔ سید صاحب آخری ایام میں اپنے وطن واپس ہوئے اور انکا خاندان سندھ میں ہی رہا، لک پر رہائش کی وجہ سے لکیاری سے مشہور ہوا۔
سید احمد شاہ ایک اہل اللہ شخص تھے ، جس کا فرزند سید صدرالدین لکیاری/ (شاہ صدر لکی) بلند پایہ کے عارف تھے ، جن سے ملاقات کے لئے ہند سے خواجہ معین الدین چشتی اجمیری، مرند ایران سے قلندر لال شہباز (سید عثمان مرندی) اچ شریف سے سید جلال سرخ پوش بخاری اور دیگر بزرگ آتے تھے۔ آپ اکثر اوقات عالم استغراق میں رہتے تھے ، گوشہ نشیں اور خلوت پسند تھے ، خوف خدا سے ہر وقت آنکھیں نم رہتی تھیں۔
حضرت پیر سائیں روضہ دھنی کے والد سید محمد بقا شاہ ہجرت کر کے گوٹھ رحیم ڈنہ کلہوڑہ خیرپورمیں آباد ہوئے ، ان کے والد سید محمد امام شاہ /بھی ایک کامل ولی تھے، مجمع الفیوضات میں ہے کہ آپ کے حلقہٴِ ارادت میں جن بھی شامل تھے ۔ آپ کے فرزند پیر سائیں سیدمحمد بقا شاہ شہید / (۱۱۹۸- ۱۱۳۵ھ) ’’شمس العارفین‘‘ کے لقب سے موصوف ہوئے۔
آپ بچپن ہی سے عابد و زاہد ، نیک سیرت اور حق کے متلاشی تھے ۔ اس سلسلہ میں آپ مختلف بزرگوں کی صحبت میں حاضر رہتے تھے ، زیادہ تر مخدوم محمد اسماعیل پریالوی کے حضور میں رہے ، جہاں سے سلسلہ نقشبندیہ کی اجازت ملی، مگر مخدوم صاحب ہمیشہ فرماتے تھے کہ آپ کی امانت اور فیض ایک قادری بزرگ کے پاس ہے۔
پھر مخدوم صاحب نے اس کی نشانیاں بھی بتائیں، جن کی بنا پر پیر سائیں سید محمد بقا شاہ / روہڑی میں موئے مبارک رسول اکرم ﷺ کے لئے کوٹ سدھانہ پنجاب سے آئے ہوئے بزرگ سید عبدالقادر آخرین گیلانی کے دست بیعت ہوئے ۔ اپنے مرشد کے حضور ہمیشہ تواضع اور ادب سے رہے ، دربار پر ہمیشہ خدمت میں مگن رہے، یہاں تک کہ آپ نے مال مویشی کی نگہداشت اپنے ذمہ لی، مرشد کریم نے ادب و خدمت سے خوش ہو کر سلسلہ قادریہ کا قدم آپ کے کاندھوں پر رکھا ، اور سورہ یاسین کی اجازت مرحمت فرمائی۔ (
آپ ایک بار سفر میں تھے ، ماتھے پر کتابوں کی گٹھڑی تھی ، کچھ لٹیروں نے آپ کو دیکھا تو سمجھا کہ اس میں مال و زر ہے، اسی لئے راہ چلتے آپ پر حملہ کرکے زخمی کردیا۔ جب گٹھڑی کو کھولا گیا تو اس میں تو صرف کتابیں تھیں، اس پر وہ پشیماں ہوئے ۔ معافی مانگی تو آپ نے فرمایا میں نے تمہیں معاف کیا۔ مجھے اپنی اولاد کے پاس لے چلو، پھر آپ کو گڑھی یاسین سے گوٹھ رحیم ڈنہ لایا گیا، جہاں آپ زخموں کا تاب نہ لاتے ہوئے شہادت کے مقام پر فائز ہوئے اور اپنے قاتلوں کو بھی معاف کرگئے۔

عظیم فرزند کی بشارت
حضرت پیر سائیں سید محمد بقا شاہ سے ان کے مرشد حضرت سید عبدالقادر گیلانی نے شادی کے بارے میں پوچھا ،تو آپ نے عرض کی: حضور! اس خوف سے شادی نہیں کرتا کہ مبادا اولاد صالح نہ ہو ، حضرت صاحب /نے فرمایا شاہ صاحب شادی کرو تمہاری اولاد میں سے ایک فرزند بڑا عالم اور مہدی زمان ہوگا، اس کے بعد افضل پھر اکمل اسی طرح سات نسلوں تک اعلیٰ اور اکمل ہوں گے ۔
اسی طرح ایک اور روایت میں ہے کہ سندھ کے معروف بزرگ شاہ عبداللطیف بھٹائی (متوفی ۱۱۹۵ھ)، گھوٹکی کی طرف جاتے ہوئے راستہ میں پیرسائیں سید محمد بقاشاہ/ سے ملاقی ہوئے ، خیر و عافیت کے بعد جب رخصت ہوئے تو پیر سائیں نے ظرافتًا کہا شاہ صاحب! کیوں ان فقیروں کو اپنے ساتھ لائے پھر رہے ہو؟ شاہ صاحب نے فورًا فرمایا۔سید صاحب! میرے ساتھ تو یہ چند مرید ہیں، تمہاری پشت سے ایک ایسا جوان آرہا ہے جس کے پیچھے لاکھوں لوگ دیوانہ بن کے گھومیں گے۔
ولادت
امام العارفین حضرت پیر سائیں سید محمد راشد روضہ دھنی، ششم رمضان المبارک ۱۱۷۱ ھ مطابق 1758ء کو حضرت سید محمد بقا شاہ پٹ دھنی /کے گھر قریہ رحیم ڈنہ کلہوڑہ خیرپور میرس میں تولد ہوئے ، احترام رمضان میں دن کے وقت شیر مادر نہیں پیتے تھے ، اس لئے روزہ دھنی (صاحب الصوم) کے لقب سے بھی مشہور ہوئے ۔
تعلیم و تربیت
حضرت پیر سید محمد بقاشاہ کو بزرگوں کی بشارات سے جو عظیم فرزند ملا، اس کی تعلیم و تربیت پر آپ نے خوب توجہ دی۔ ابتدائی تعلیم کے لئے معروف بزرگ حافظ زین الدین مہیسر اور (پیرسائیں روضہ دھنی/ کے سُسر) میاں محمد اکرم گھمرہ کو مقرر کیا۔ اس کے بعد حضرت پیرسائیں روضہ دھنی /اور ان کے برادر محترم سید مرتضیٰ علی شاہ / کو شکارپور کے مشہور بزرگ حاجی فقیر اللہ علوی (متوفی ۱۱۹۵ھ) (جو مخدوم المخادیم علامہ محمد ہاشم ٹھٹھوی کے تلمیذ رشید تھے۔) کے مدرسہ میں داخل کروایا،
دوسری مرتبہ جب خیر خیریت کی خبر لینے پیر سائیں پٹ دھنی تشریف لائے تو دیکھا کہ صاحبزادگان کو سادات ہونے کی وجہ سے دیگر طلباء پر فوقیت اور امتیازی حیثیت دی جارہی ہے۔ یہ بات آپ کو پسند نہیں آئی، صاحبزادگان کو فرمایا کہ جہاں تعظیم و تکریم کے ساتھ اچھا کھانا ملے وہاں تحصیل علم مشکل ہے۔ پھر کوٹڑی کبیر میں مخدوم میاں یار محمد کے پاس لے آئے (یہ وہ بزرگ ہے ، جس نے حضرت پیر سائیں روضہ دھنی/ کو سنہ ۱۲۱۲ھ میں مسجد کی تعمیر پر ایک تاریخی قطعہ لکھ کر دیا تھا)
اسی مدرسہ کی تعلیم دوراں حضرت پیر سائیں سید محمد راشد/ اور ان کے بردار سید مرتضیٰ علی شاہ /کو والد گرامی پیر سائیں سید محمد بقا شاہ نے نقشبندی سلسلہ میں بیعت دی۔ دوسری بار جب آئے تو دیکھا کہ پیر سائیں روضہ دھنی/ کو نقشبندی سلسلہ میں کوئی خاص کامیابی نہیں ملی تو آپ نے سلسلہ قادریہ میں بیعت لی ، جو آپ نے ضلع جھنگ کے کوٹ سدھانہ کے بزرگ سید عبدالقادر آخرین گیلانی سے حاصل کیا تھا، کوٹڑی کبیر کے بعد حدیث پاک کی تعلیم کے لئے گوٹھ خیر محمد آریجہ (لاڑکانہ) کے مشہور بزرگ عالم مخدوم الکل محمد آریجوی کے پاس لے آئے ، جہاں ظاہری علوم کی تحصیل کی تکمیل ہوئی۔
سجادہ نشینی
حضرت پیر سائیں سید محمد راشد روضہ دھنی کی عمر مبارک 28 سال تھی کہ سنہ ۱۱۹۸ ھ مطابق 1783 ء میں والد گرامی سید محمد بقاشاہ /کو شکارپور میں دوران سفر لٹیروں نے شہید کردیا۔ پیر سائیں روضہ دھنی /اپنے والد کی مسند ارشاد وہدایت پر براجماں ہو کر دین مبین کی تبلیغ وا رشاد میں مصروف ہوئے۔
حضرت پیر صاحب نے ظاہری علوم وقت کے مقتدر علماء سے حاصل کئے۔ روحانی علم اور طریقت کے سبق اپنے والد گرامی سے سیکھے، جب مسند نشین ہوئے تو ایک جگہ بیٹھ کر درس و تدریس کا سلسلہ جاری کرنے کے بجائے آپ نے سفر کو وسیلہ ظفر سمجھا، روایات کے مطابق آپ سال کے نو ماہ سفر میں رہتے تھے ، مختلف اطراف کے لوگوں کو لاالٰہ الا اللہ کے ذکر کے ساتھ سنت رسول اکرم ﷺ پر عمل کی ترغیب دیتے تھے ، تحریک ذکر اللہ و احیائے سنت رسول تھی۔
سال کے باقی تین ماہ بھی درگاہ شریف پر خلق خدا کی اصلاح وتبلیغ میں صرف کرتے تھے ، سفر میں ہی اپنے صاحبزادگان کی تعلیم و تربیت کا سلسلہ قائم رکھا، تصنیف و تالیف کے ساتھ فتاویٰ اور مختلف شرعی مسائل لکھ کر دیتے تھے ، آپ نے سلسلہ قادریہ اور سلسلہ نقشبندیہ کا حسین امتزاج کیا، لوگ جوق درجوق آپ کے سلسلہ میں داخل ہونے لگے۔ آپ بیعت لے کر تربیت کرتے یا بڑے خلفاء کو نئے سالکوں کی تربیت پر مامور کرتے۔
سيروسفر
حضرت پیرسائیں سید محمد راشد روضہ دھنی نے فیص کو عام اور مریدوں تک رسائی کے دو طریقے اختیار فرمائے۔ اول یہ کہ معتقدین خود پروانے کی طرح درگاہ شریف پر آتے تھے ، وہاں رہ کر اپنے کامل مرشد سے روبرو فیض اور روحانیت کا درس لیتے تھے ۔ دوسرا یہ کہ حضرت پیرسائیں خود درگاہ مبارکہ سے اپنے مریدوں پر شفقت کرنے کے لئے ان کے گھر تشریف لاتے تھے۔
آپ کی اس روش نے ایک طرف درگاہ مبارکہ کے فیض کو عام کیا، تو دوسری طرف ایک کامل مرشد کو سندھ، بلوچستان ، پنجاب، اور جیسلمیر کے طول و عرض میں عوام کو دیکھنے اور ان کے سماجی ، اقتصادی اور سیاسی مسائل کو سمجھنے کا موقع ملا۔ جس کی روشنی میں آپ نے اپنے مریدوں اور معتقدوں کے روحانی مسائل کو حل کرنے کا مناسب طریقہ اختیار فرمایا۔
آپ نے روحانیت ، تصوف اور خدمت کا وہ مثالی کردار پیش کیا٬ جس کی وجہ سے حلقہِٴ ارادت میں روز بروز اضافہ ہوتا گیا۔ مجمع الفیوضات کی روشنی میں آپ نے جن مقامات کا سفر کیا، اجمال یہ ہے
امام واہ، اوباڑہ، بندر مڈئی، بنڈہ، بہاولپور، باگڑجی، پنوعاقل، بھج، ٹھٹھہ، ٹنڈہ بہاول نظامانی، ٹنڈہ لقمان ٹالپر، ٹنڈہ سومر نظامانی، ٹنڈہ محمد خان، ٹنڈہ جان محمد، ٹنڈہ سائیں داد، ٹنڈہ قیصر نظامانی، تھر میں دیہہ ترائی، جھیجا، کھوڑا، حیدر ٹالپر، کڑیہ، پاہنی، کھیر ڈہی، خجک ،
بکھری، گاری، راہوں، دیرہ شاہ، فتح پور، کھوکھر، کاتیار، اوجل راجڑ، کھڈڑہ، گڑہی بختیار، گاؤں ونڈی، حیدرآباد، سانگھڑ، سیدپور، کچھ، قلات، قلعہ تنوٹ، تھر ، ہالا، خیرپور، روہڑی، ریگستان، لاڑ، لاڑکانہ، شکارپور، شہدادپور، نوشہرہ فیروز، لواری، گنداواہ، عمرکوٹ، جھالا واہ، جیسلمیر وغیرہ
تحريک احياءِ ذکر و سنت نبویﷺ
حضرت پیرسائیں سید محمد راشد روضہ دھنی نے اپنی حیات مبارکہ، ذکر اللہ اور سنت رسول اکرمﷺ کو عام کرنے میں گزاری۔ آپ قادری سلسلہ میں بیعت لینے کے بعد اپنے مریدین کو دو وقت فجر کے نماز سے اول اور مغرب کی نماز کے بعد قادری سلسلہ کے ذکر کا تاکید کرتے تھے ، شریعت کے تمام اصول و احکام پر عامل رہنے کے ساتھ حضرت نبی اکرمﷺ کی سنت پر عمل کی سخت ہدایت کرتے تھے۔
سفر خواہ حضر میں آپ کے حضور میں ذکر و سنت کی متابعت کا سلسلہ رہتا تھا۔ یہاں تک کہ دورانِ سفر آپ کے قافلہ کا نعرہ ، نعرہِٴ تہلیل لا الٰہ الا اللہ تھا، آپ نے تمام عمر سنتِ نبویﷺ پر عمل کیا، ایک بھی ایسی سنت نہ تھی جو آپ نے عمل نہ کیا ہو۔
تصنيف و تاليف
چونکہ حضرت پیرسائیں روضہ دھنی /نے درس و تدریس اور تصنیف تالیف کے بجائے تعلیم و تربیت اور تزکیہ نفس پر زور دیا تھا، تاہم آپ نے بعض تصانیف بھی کی ہیں۔ جس کا اجمال اس طرح ہے۔
جمع الجوامع: یہ فارسی لغت ہے ، جو جہازی سائز کے 3500 صفحات پر مشتمل ہے، جس سے حضرت روضہ دھنی کا علمی کمال و فضل دکھائی دیتا ہے۔ اہل زباں ایران نے فارسی کے لغت دہخدا ، 52 جلدوں میں چھپوائی ہے، جب ان سے تقابل کیا گیا تو حضرت پیر سائیں روضہ دھنی/ کے لغت کے فقط الف ممدوہ میں دس ایسے الفاظ تھے ، جو اہل زباں کی لغت میں نہیں تھے ، یہ لغت معروف قلمکار ڈاکٹر خضر نوشاہی کی ایڈیٹنگ سے جامعہ راشدیہ درگاہ مبارکہ پیرجوگوٹھ سے چھپ رہی ہے، 4 جلد منظر عام پر آچکے ہیں، مزید سلسلہ جاری ہے۔
مکتوبات شريف: اس میں حضرت روضہ دھنی کے وہ 46 مکتوب ہیں ، جو آپ نے اپنے معاصر علمائے کرام، مشائخ عظام اور اپنے احباب و ارادتمندوں کی طرف لکھے، جس میں تصوف اور شریعت کے مسائل کی مفصل شرح کی ہے۔ یہ عربی اور فارسی زباں میں تھے ، ڈاکٹر نذرحسین سکندری نے اس کے ترجمہ اور حضرت پیرسائیں کی سوانح حیات پر سندھ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی، بعد ازاں مدرسہ صبغۃ الہدیٰ شاہپورچاکر سے چھپا۔
شرح اسماءُ الله الحسنیٰ: اسماء اللہ الحسنیٰ پر اپنی نوعیت کا یہ منفرد کتاب ، علامہ عبدالحق ظفر چشتی نے اردو میں ترجمہ کیا اور سندھی میں علامہ محمد اسماعیل میمن سکندری نے ترجمہ کیا جو سکندریہ پبلیکشنر جامعہ راشدیہ سے شایع ہواہے۔
آداب المريدين:یہ کتابچہ فارسی زباں میں تھا، اس کے ترجمہ اور تعلیق کا کام حافظ محمد یوسف بھنبھرو سکندری نے کیا، سکندریہ پبلیکشنز جامعہ راشدیہ سے شایع ہوا ہے۔
مجمع الفيوضات: یہ کتاب براہِ راست آپ کی تصنیف نہیں بلکہ آپ کے ارشادات کا مجموعہ ہے، جس کو آپ کے معتمد مرید خلیفہ محمود فقیر نظامانی (متوفی ۱۲۶۷ھ) نے جمع کیا، دو جلد ، سولہ ابواب پر مشتمل پر اس کتاب کا سندھی ترجمہ بزرگ علامہ محمد قاسم مشوری (جلد اول) علامہ مفتی درمحمد سکندری (جلد دوم) نے کیا، سکندریہ پبلیکیشنز سے متعدد بار چھپ چکا ہے، اردو ترجمہ کی سعادت السید صبغت اللہ شاہ سہروردی کے حصہ میں آئی ، جو آپ کے پیش خدمت ہے۔
صحبت نامہ:یہ بھی حضرت روضہ دھنی کی ملفوظات ہے، جو ملفوظات صغیر کے نام سے معروف ہے، جس کو خلیفہ محمد حسین مہیسر نے ترتیب دی۔ اس کی افادیت یہ ہے کہ مرتب نے یہ ملفوظات ترتیب دے کر حضرت پیر سائیں روضہ دھنی/ کو دکھائی تھی۔ سندھی زباں میں “صحبت سپیرین جی” کے نام سے علامہ مفتی عبدالرحیم سکندری نے ترجمہ کیا، مدرسہ صبغۃ الہدیٰ شاہپورچاکر نے اشاعت کروائی۔
پيرسائيں روضہ دھنی/ جو کلام:حضرت پیرسائیں روضہ دھنی/ شاعری سےبھی شغف رکھتے تھے ، بعدا زاں والد گرامی نے منع فرمایا تو شاعری سے توجہ ہٹالی، تاہم آپ کے کچھ اشعار دستیاب ہیں، جن کو ترتیب دے کر مولانا عبداللطیف سکندری نے ’’ پیرسائیں روضہ دھنی جو کلام‘‘ کے نام سے چھپوایا ہے۔
مجمع الفیوضات ایک مطالعہ اور نتیجہ
مجمع الفیوضات کے مطالعہ کے حوالے سے معروف اسکالر جناب ڈاکٹر این اے بلوچ صاحب کے الفاظ کو من و عن پیش کرتا ہوں۔
مجمع الفیوضات ملفوظات کے مطالعہ سے نتیجتًا یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ ملفوظات تیرہویں صدی ہجری کے اوائل یعنی ٹالپر حکمرانوں کے دور میں سندھ کی روحانی عظمت، ثقافت اور تہذیب کا آئینہ ہے۔
ملفوظات میں بیان شدہ معاصرانہ روایات میں صاحب ملفوظات کے حال و قال، علم و عرفان، رشدو ہدایت کا جلوہ اور جمال دکھائی دیتا ہے، جس میں آپ کی ذاتی فضیلت، روحانی عظمت ، خلق خدا سے محبت، فقر و فاقہ پر راضی رہنا، ضعیفوں سے ہمدردی، زورآوروں سے بے خوفی اور بے نیازی، اپنے ارادتمندوں، عقیدتمندوں سے محبت و شفقت کے من موہن مثال موجود ہیں۔
مگر جب غور کیا جاتا ہے کہ آپ کی اتنی بڑی مقبولیت کے اسباب کیا تھے کہ قلیل مدت میں سندھ سے باہر بھی ہزارہا لوگ اپنے کے مرید اور معتقد ہوگئے تو اس سلسلہ میں آپ کی ذاتی فضیلت اور بلند اخلاقی کی کئی خصوصیات اور خوبیاں نظر آتی ہے، جن میں سے خاص وہ جن سے خلق خدا آپ سے متاثر ہو کر آپ کی طرف متوجہ ہوئی وہ تھی جذبہ خلق خدا، مریدوں اور معتقدوں سے انسانی برادری اور مکمل طور اسلامی رواداری کا سلوک ، بڑی بات یہ تھی کہ مشائخی نہیں رکھی ، خود کو پیر بنا کر پیش نہیں کیا، باوجودیکہ ہزارہا دلوں پر گرفت تھی۔ سندھ میں سلوک و طریقت اور عرفانی عظمت کی انتہاپر تھے۔
حضرت روضہ دھنی کا مسلک اور سالکان الٰہی کو عطا کردہ فیض و تربیت کا اثر تا حال باقی ہے۔ اول یہ کہ جماعت میں ’’دلی ادب‘‘ کو بڑی اہمیت ہے۔ مرشد کے قدموں پر ہاتھ رکھنا، دست بوسی یا جھکنے کی ظاہرداری کے بجائے دل میں محبت اور ادب ہے، بس مرشد کا دور سے دیدار اور سلام کافی ہے۔ ’’اجتماعی دیدار‘‘ کا عمل اسی ’’دلی ادب‘‘ کے اصول کا مظہر ہے۔
دوسرا یہ کہ آپ کی اسلامی رواداری اور انسانی برادری کی تلقین کا یہ ثمر ہے کہ آپ کے ارادتمندوں میں مرد ، عورت کا کوئی فرق نہیں، تمام احباب کو وہی ’’لنگر‘‘ کھانا ہے، ایک ہی صحن میں بغیر چارپائی بیٹھناسونا ہے، تیسرا یہ کہ بغیر ساز کے ’’جماعتی راگ‘‘ (سماع) جو آپ کے وقت میں رائج ہوایک ادارہ کی طرح آج تک جاری ہے، چوتھا یہ کہ آپ نے اپنے ارادتمندوں کو صفائی ستھرائی کی تلقین کی ، اسی طرح یہ نفاست اس خانقاہ کے ارادتمندوں کی خصوصیت رہی ہے۔
خلفاء
روایات کے مطابق حضرت روضہ دھنی کے مجاز خلفاء کی تعداد 1200 سے زائد ہے۔ جو تمام صاحب مسند ارشاد و تلقین تھے ، جن میں سے مسند نشیں صاحبزادہ سید صبغت اللہ شاہ/، حضرت سید محمد یاسین شاہ /درگاہ ٹھلاہ شریف، صاحبزادہ سید احسن شاہ /درگاہ بکھری شریف، خلیفہ سید محمد حسن شاہ درگاہ سوئی شریف۔ خلیفہ محمود فقیر نظامانی، خلیفہ محمد حسین مہیسر (جامع ملفوظات صغیر) ، خلیفہ سارنگ فقیر کلہوڑہ،خلیفہ امید علی ، خلیفہ محمد پناہ، خلیفہ محمد لقمان ٹالپر، خلیفہ سعید خان مابان والے، خلیفہ نبی بخش لغاری سرفہرست ہیں۔
ذاتی اوصاف
یاد الٰہی ، توکل، قناعت اور استغنا آپ کے عرفان کے بنیادی ستون تھے ۔ یادالٰہی کا یہ عالم تھا کہ ہر وقت آپ کا اٹھنا بیٹھنا اوڑنا بچھونا ذکر اللہ سے تھا۔ توکل کا یہ عالم کے رات کو پانی کے مٹکے بھی خالی کروادیتے تھے کہ صبح اللہ عزوجل دوسرا عطا فرمائے گا۔ قناعت نہ فقط آپ کا شعار تھی بلکہ اپنے عیال اور احباب کو بھی اسی راہ پر گامزن کیا۔
رضا برقضا محبوب شغل تھا ، کبھی کبھار تو گھر میں مسلسل فاقہ رہتا تھا ، بعض اوقات گھر میں کھانے کے لئے کچھ نہیں ہوتا تھا مگر کبھی زباں پر شکوہ شکایت نہیں لائے ۔ مزاج میں کمال عجز اور انکسار تھا، نہایت رحمدل، فیاض، خدا ترس، دوسروں کا خیال رکھنے والے، خدمت انسانیت میں خوشی محسوس کرنے والے، اپنے ارادتمندوں کے ساتھ کام کاج میں ہاتھ بٹوانا، ان کو اپنی ساتھی ہی سمجھنا، ان سے دلی محبت، اسلامی برادری اور رواداری کا سلوک کرنا، عفوو درگزر، دوسروں کو بخشنے والےاور ہمیشہ سادہ زندگی بسر کی، بڑوں کی عزت ، چھوٹوں پر شفقت کے ساتھ اپنے معاصر علماء اور مشائخ کا دلی احترام کرتے تھے ۔
دینی و روحانی خدمات
حضرت پیر سائیں سید محمد راشد روضہ دھنی نے جب اپنے والد گرامی کی مسند سنبھالی تو اس وقت آپ کی عمر 28 سال تھے ، اسی دن سے آپ دین متین کی خدمت اور تصوف کی تبلیغ میں شروع ہوئے ۔ تصنیف و تالیف، سالکان الٰہی کی روحانی و دینی تربیت، اولاد کی تعلیم و تدریس ، ارشاد و تبلیغ کا سلسلہ تادم حیات جاری رہا۔
سال کے نو ماہ سفر میں اور باقی ایام درگاہ مبارکہ پر بھی یہی مشغلہ رہا، گویا کہ آپ نے اپنی تمام زندگی دین کے لئے وقف کردی، نتیجہ یہ نکلا کہ آپ کا سلسلہ مقبول عام ہوا، لوگ جماعتوں کی صورت میں آپ کے حلقہ ارادت میں داخل ہونے لگے۔ بقول معروف ادیب غلام ربانی آگرو :
حضرت روضہ دھنی کے دور میں سندھ نے ایک ایسا منظر دیکھا جو نہ کبھی پہلے دیکھا ہوگا نہ بعد میں۔ لاکھوں کی تعداد میں تہجدگزار اور ذکر الٰہی کرنے والے مرید تھے ، آپ شریعت و طریقت کے حسین امتزاج سے میدان میں آئے تو جس جگہ سے گزرے٬ لوگ دیوانوں کی طرح پیچھے لگ پڑے۔ ان کو ان کے گھروں پر جا کر ذکر کی ترغیب دی اور سنت رسول اکرم کی پیروی کا حکم دیا، آپ کے بارہ سو زائد مجاز خلفاء کے علاوہ افغانستان، ایران، بلوچستان، پنجاب، سندھ، کچھ، قلات، جیسلمیر اور کشمیر تک لاکھوں مرید تھے۔
اولاد امجاد
حضرت روضہ دھنی کو 18 فرزند تھے ،جن میں سے 4 بچپن میں ہی فوت ہوگئے، آپ کے وصال بعد آپ کا خاندان دو حصوں میں تقسیم ہوا۔ وراثت میں ایک کو پگڑی (دستار ) ملی ، وہ پگاڑا کے نام سے معروف ہوئے ، پگاڑہ اول آپ کے فرزند سید صبغت اللہ شاہ اول/ (۱۱۹۳-۱۲۴۶ھ) ، پگاڑہ دوم ان کے فرزند سید علی گوہر شاہ اول/ ( ۱۲۳۱- ۱۲۶۳ھ)، پگاڑہ سوم ان کے فرزند سید حزب اللہ شاہ / (۱۲۵۸- ۱۳۰۸ھ)، پگاڑہ چہارم ان کے فرزند سید علی گوہر شاہ ثانی/ (۱۲۷۵- ۱۳۱۴ھ)، پگاڑہ پنجم ان کے برادر سید شاہ مردان شاہ اول/ (۱۲۷۹- ۱۳۴۰ھ)،
پگاڑہ ششم ان کے فرزند سید صبغت اللہ شاہ ثانی سورہیہ بادشاہ/ (۱۳۲۷- ۱۳۶۲ھ- 1909-1943ء) ، پگاڑہ ہفتم ان کے فرزند سید شاہ مردان شاہ ثانی/ (۱۳۴۷- ۱۴۳۳ھ- 1928-2012ء)اور پگاڑہ ہشتم ان کے فرزند سید صبغت اللہ شاہ ثالث بنے ، جو اس وقت مسند نشیں ہے، پیران پگاڑا میں سے ہر ایک اپنے دور کی ایک تاریخ ہے۔
دوسرے فرزند سید محمد یاسین شاہ / (متوفی ۱۲۷۵ھ) کو جھنڈا ملا (جو افغانستان کے حاکم نے حضرت پیر سائیں روضہ دھنی/ کو ان کی دینی اور خدمات کے اعتراف میں دیا تھا)۔ جو خاندان جھنڈے والے (صاحب العَلم ) سے مشہور ہوئے ۔
وصال مبارک
امام العارفین حضرت پیرسائیں سید محمد راشد روضہ دھنی نے تمام زندگی سنت رسول اکرم ﷺ پر عمل کرتے ہوئے ، 63 برس کی عمر میں اس فانی جہاں سے الوداع کیا۔ وصال کے 16 سال بعد دریا کے پانی کی وجہ سے آپ کے پوتے پگاڑہ دوم سید علی گوہر شاہ اول /نے اپنے جدامجد اور والد گرامی کے جسد کو وہاں سے نکال کر موجودہ درگاہ مبارک پر سپرد خاک کیا۔ جس پر شاندار گنبد (روضہ ) کی تعمیر سبب آپ کو روضہ دھنی سے یاد کیا جاتا ہے، آپ کی مزار اقدس مرجع خلائق ہے۔