حضرت پیر سائیں سید محمد بقا شاہ شہید پٹ دھنی قدس سرہ

 سلسلہ قادریہ کے بانی حضور  شیخ عبدالقادر جیلانی  رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے کہ  ، ” جب اللہ کسی بندے کو منصب ولایت پر فائز کرنا چاہتا  ہے تو اس کے لیے ذکر و قربت کا دروازہ کھول دیتا ہے پھر اسے کرسی توحید پر بٹھا کر پردے ہٹا دیتا ہے پس وہ اللہ کے جمال و جلال کا دیدار کر ہے اور دعویٰ نفس سے بری ہوجاتا ہے۔ِ”

ان جملہ صفات سے موصوف  ہمارے ممدوح ، حضرت پیر سید محمد بقا شاہ شہید پٹ دھنی تھے ۔ جنہوں نے اپنی ہستی کو فنا کردیا۔ ایک فقیر ایک خادم اور ہیچمدان کی حیثیت سے اپنے بزرگوں کی خدمت میں رہے۔   آپ کی شخصیت کے گوناگون اطراف کا احاطہ مشکل ہے۔ تاہم  مختلف جگہوں پر بکھری معلومات کو یکجا کر کے ایک حد تک تعارف کروانے کی ایک کوشش کی گئی ہے۔

ولادت و نسب

حضرت پیر سید محمد بقا شاہ شہید پٹ دھنی قدس سرہ   یکم شعبان المعظم 1135 ھ مطابق 7 مئی 1723 ء  بروز ۔۔۔۔ کو قصبہ رحیم ڈنہ کلہوڑہ ( چھوٹی سائیدی)  خیرپور میرس سندھ میں  حضرت سید محمد امام شاہ کے گھر  پیدا ہوئے۔

اسم گرامی و القاب

 آپ کا نام نامی اسم گرامی سید محمد بقا شاہ شہید  اور لقب پٹ دھنی تھا۔ شمس العارفین کے لقب سے بھی یاد کئے جاتے ہیں۔   “پٹ” سندہی زبان میں زمین کو کہتے ہیں۔ آپ ہمیشہ نیچے زمین پر بیٹھتے تھے تو اسی لقب سے موسوم ہوئے۔ دہنی: صاحب، ذو   کے مترادف ہے۔

تعلیم و تربیت

چونکہ حضرت پیر سید محمد بقا شاہ شہید پٹ دھنی کی سوانح یا ملفوظات قلمبند نہیں ، اسی وجہ سے آپ کے  تفصیلی حالات پر مشتمل کوئی مستند مواد نہیں۔ تاریخ اور سیر کی بعض کتب اور آپ کی اولاد امجاد کی ملفوظات کی روشنی میں    سوانح حیات پر تھوڑا بہت لکھا گیا ہے۔ لہٰذا آپ کے بچپن اور بعد کے حالات پر تفصیل نہیں ۔ اسی طرح  آپ نے کہاں تعلیم حاصل کی ، اس حوالہ سے کوئی روایت تو نہیں مل سکی، تاہم یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ آپ بہت بڑے عالم تھے۔ ذیل میں ذکر ایسے واقعات آپ کے علمی مقام پر شاہد ہیں۔

پٹ دھنی

شادی و اولاد

حضرت پیر سید محمد بقا شاہ شہید پٹ دھنی کی دو شادیاں تھی۔  جن سے چار فرزند  سید عبدالرسول شاہ، سید محمد سلیم شاہ، سید محمد راشد روضہ دہنی،  اور سید مرتضیٰ علی شاہ تھے۔

معمولات

حضرت پیر سید محمد بقا شاہ شہید پٹ دھنی تقوی اور پرہیزگاری میں کمال درجہ پر فائز تھے ، بچپن سے ہی آپ  راہ  سلوک کے مسافر تھے  مجمع الفیوضات میں موجود یہ روایت   اس امر کی واضح  عکاسی پیش کرتی ہے۔  آپ فرماتے تھے کہ” ابتدا میں عادت تھی کہ  پنجگانہ نماز، شب خیزی، تہجد، نوافل اشراق اور درود پاک میں پوری طرح  مشغول رہتا تھا ، صبح صادق  کو فجر  کی سنت سے فرض تک درود پاک ، فرض کے بعد طلوع آفتاب تک  وہاں بیٹھ کر اشراق کے بعد مسجد سے باہر آتا تو  عرض کرتا خدایا! تیرا شکر ہے کہ تو نے  عبادت کی توفیق بخشی۔

دروازہ پر ایک مجذوب ، ننگے سر، آگ جلا کر رات دن بیٹھا ہوتا تھا مجھے دیکھ کر کہنے لگا:” بابا! ہنوز دلی دور است”   مجذوب کے اس طنز پر اس  وقت حیرت ہوتی تھی جب طلب مولیٰ میں ہمت کا قدم رکھا تو معلوم ہوا کہ برابر مجذوب سچے تھے ۔ بیشک الٰہی عشق کے علاوہ سارے کام بیکار ہیں۔ (ملفوظات 244/1)

سلسلہ  نقشبندیہ

حضرت پیر سید محمد بقا شاہ شہید پٹ دھنی اپنے علاقہ کے معروف بزرگ مخدوم محمد اسماعیل پریالوی  کی  صحبت میں اکثر  وقت بسر کرتے تھے۔ سلسلہ نقشبندیہ میں آپ نے مخدوم صاحب سے بیعت ہوئے مگر مخدوم صاحب نے اول سے ہی آگاہ فرمادیا کہ آپ کے فیض اور امانت کا حصہ سلسلہ قادریہ میں ہے۔  اس واقعہ کو استاد مفتی محمد رحیم سکندری ، اپنے استاد محترم مولانا محمد صالح مہر کی زبانی یوں بیان کرتے ہیں:

“مخدوم صاحب نے فرمایا کہ آپ کی بیعت سلسلہ قادریہ کے ایک کامل پیر سے مقدر ہے، جس کے ہاتھوں پکی ہوئی مچھلی زندہ ہوگی۔  مخدوم صاحب کے اس اشارے پہ پیرسائیں پٹ دھنی کے  اشتیاق میں اور اضافہ ہوا ،  “جویندہ  یابندہ”  موجب ایک مرتبہ حضرت پیر سید عبدالقادر گیلانی سفر میں تھے  کہ حضرت پیرسائیں نے روہڑی  میں  سرکار دوعالم  صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارکہ کی زیارت کے  لئے بزرگ کو دعوت دی،  بزرگ صاحب نے دعوت  قبول کی ، ہاتھ دھو کر پانی کی چھینٹیں مچھلی پر پھینکی تو پکی ہوئی  مچھلی زندہ ہوگئی۔  بس طالب کو مطلوب اور مرشد کو صادق مرید مل گیا۔ “

پھر آپ نے سلسلہ قادریہ میں سید عبدالقادر آخرین گیلانی  ( کوٹ سدھانہ ، جھنگ ، پنجاب ) سے بیعت کی۔   اسی وقت سے آج تک ان دو عظیم روحانی خانوادوں میں  ربطہ اور تعلق برقرار ہے۔

پٹ دھنی

علمی مقام

امام العارفین حضرت سید محمد راشد روضہ دہنی نے ایک بار فرمایا میں دو امیوں کا بیٹا ہوں۔ ایک سرکار دوعالمﷺ اور دوسرے میر ے والد بزرگوار سیدمحمد بقا شاہ پٹ دھنی۔ اس کے باوجود آپ جس علمی مقام  پر فائز تھے اس پر یہ دو واقعات شاہد ہیں:

ایک مرتبہ  حضرت سید عبدالقادر گیلانی کا صاحبزادہ ایک مشکل تحریر ( جو ان کے استاد محترم سے حل نہ ہوسکی تھی)  حل کروانے کے لئے  لے کر آ رہا تھا، راستہ میں حضرت پیرسائیں  ملے ، صاحبزادہ سے پوچھا: ” جناب دی دست مبارک وچ  کیہا کاغذ ہی”  ( جنا ب کے ہاتھ میں کونسا کاغذ ہے)

صاحبزادہ نے فرمایا: “فقیر صاحب!  تحریر دا سوالی پرچہ ہی جیکا استاد کنوں حل نہ تھئی، جواب خاطر حضرت اباسائیں ڈے موکلیا ہی۔” ( ایک تحریر ی سوال ہے جو استاد سے حل نہیں ہوسکا، اباجان کے طرف جواب کے لئے بھیجا ہے۔)

اس پر حضرت پیرسائیں (پٹ دھنی) نے عرض کی:  “اہو پرچہ ھک رات خاطر عنایت فرمایو” (یہ پرچہ ایک رات کے لئے مجھے عنایت فرمائیں)

بہت اصرار کے بعد صاحبزادہ نے وہ پرچہ آپ کو دے کر محفوظ رکھنے کی تاکید کی۔وقت کے متبحر عالم حضرت پیر سائیں نے سوکھی گھاس  اور لکڑیاں   جلا کر  رات کو ہی  کسی کتاب دیکھے بغیر تحریر کا جواب  لکھ  دیا،  علی الصباح جب   حضرت صاحبزادہ سوال لینے   آئے تو  لکھی ہوئی فتوی دیکھ کر حیرت سے پوچھا : “فقیر صاحب جواب تساں  لکھیا ہی”  پیر سائیں نے کہا : جی۔ صاحبزادہ نے یہ پوری حقیقت  پیر دستگیر غوث الوقت والد گرامی کو عرض کی۔ آپ نے صاحبزادہ   کے استاد کو بلاکر  تحریر دے کر فرمایا: “اتھو ھون عالم صاحب دی زیارت کروں” ( اٹھو، اب عالم صاحب کی زیارت کریں)

اولاد

حضرت پیر سید محمد بقا شاہ شہید پٹ دھنی کو چار فرزند ہوئے۔  سید عبدالرسول شاہ، سید محمد سلیم شاہ، سید محمد راشد روضہ دہنی اور سید علی مرتضیٰ شاہ۔   دو فرزند سید عبدالرسول اور سید محمد سلیم آپ کے ساتھ “شیخ طیب “قبرستان  میں مدفون ہیں۔ سید علی مرتضیٰ شاہ لاڑکانہ اور پیر سید محمد راشد روضہ دہنی پیرجو گوٹھ میں ۔

خلفاء

 حضرت پیر سید محمد بقا شاہ پٹ دھنی کے خلفاء میں خلیفہ الھرکیہ عباسی، عبدالکریم افغانی،حافظ زین الدین مہیسر اور دیگر ہیں۔

 نمایاں خدمات

پیر سید محمد بقا شاہ پٹ دھنی کی نمایان خدمات میں آپ کی اولاد ہے،  جس کی آپ نےاچھی تربیت کی اور اعلیٰ تعلیم دے کر امت محمدی کی خدمت ، ارشاد و تبلیغ پر مامور کیا۔ جس سے لاکھوں لوگ راہ راست پر آئے اور متقی و پرہیزگار بنے۔ جس سلسلہ کی آپ نے ٹھان رکھی تھی اس کو پورے آب و تاب سے آپ کے عظیم فرزند حضرت سید محمد راشد نے سنبھالا اور ترقی دی۔  

تصنیفات

حضرت پیر سید محمد بقا شاہ شہید پٹ دھنی کی ذاتی تصنیفات کا معلوم نہیں ہو سکا۔ تاہم آپ کے خلفاء کی تصانیف ہے۔ اور آپ کے چند اشعار مختلف  کتابوں میں درج ہیں۔ آپ کے فرمودات جو حضرت سید محمد راشد روضہ دہنی کی ملفوظات میں شامل تھے، ان کو یکجا کر کے “صراط الطالبین” کے نام سے نوجوان محقق ڈاکٹر حافظ  محمد یوسف سکندری نے چھپوائے ہیں۔

وصال مبارک

حضرت سید محمد بقا شاہ پٹ دھنی نے اپنے مرشد حضرت سید عبدالقادر آخرین گیلانی سے دعا کروائی تھی کہ مجھے شہادت کی موت نصیب ہو۔ تو  سید عبدالقادر نے فرمایا یہ رتبہ ہم نے اپنے لئے رکھا تھا اب آپ کی خواہش کے مطابق آپ کو دیا جاتا ہے۔ اسی طرح آپ شہادت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہوئے۔

حضرت پیر سید محمد بقا شاہ شہید پٹ دھنی کی شہادت متعلق  جناب مفتی محمد رحیم سکندری اپنے مقالہ میں لکھتے ہیں”ولی کامل، عالم باعمل، سندہ میں قادری اور نقشبندی سلاسل کے  وسیع پیمانہ پہ ناشر (مقدمہ بذل القوة ، مخدوم امير احمد ص 75) ، جس نے اپنی پوری زندگی مبارکہ  اعلائے کلمۃ الحق  اور خلق کی صراط مستقیم کے طرف راہنمائی کرنے میں  گذار کر ۱۱۹۸ہجری میں جام شہادت نوش فرمایا۔

استاد مخدوم امیراحمد خواہ استاد مولانا محمد صالح مہر کی تحقیق مطابق پیرسائیں پٹ دہنی قدس سرہ کتابوں کی گٹھڑی لے کر آ رہے تھے ، راستہ میں کچھ  بدبخت لٹیروں نے سمجھا کہ اس گٹھڑی میں کوئی ملکیت ہے، اس لئے حملہ کر کے آپ کو سخت زخمی کردیا، جس کے نتیجہ میں آپ شہید ہوئے۔ آپ کی مزار اقدس “شیخ طیب” قبرستان (خیرپورمیرس) میں مرجع عام و خاص ہے۔

Leave a Comment