حضرت پیر سید علی گوہر شاہ ثانی محافے  دھنی  پیر پگاڑا چہارم

ولادت ونسب:

پیر سید علی گوہر شاہ ثانی محافے دھنی قدس سرہ، پیرسید حزب اللہ شاہ تخت دہنی کے بڑے صاحبزادے 11 رمضان المبارک 1275 ھ مطابق  11 اپریل 1859 کو  پیدا ہوئے۔

تعلیم وتربیت:  

حضرت پیر سید حزب اللہ شاہ  تخت دھنی قدس سرہ کی خدمت و صحبت میں بڑے عالم اور سخن  ور شاعر ہروقت موجود رہتے تھے۔ بیٹھے بیٹھے شعر و شاعری کی محفل سج  جاتی ۔ آپ  انہیں انعام و اکرام سے نوازتے۔ اسی علمی مجالس میں اپنے صاحبزادگان کے تعلیم و تربیت کا  اہتمام  بھی تھا۔   دینی علوم سے واقفیت اور آگہی اپنے عظیم والد سے حاصل کی۔

القاب : 

محافے دہنی۔۔  حضرت پیر سید علی گوہر شاہ ثانی محافے دھنی جوانی میں ہی بیمار رہنے  لگے ، آپ کی  طبعیت اور ضعیفی کے باعث  سفر کے لئے ایک محافہ جماعت کی طرف سے بنایا گیا، جس میں بیٹھ کر حضرت سید علی گوہر شاہ ثانی محافے دھنی جماعت میں دعوت و تبلیغ اور دیگر اسفار کرتے تھے۔ محافہ ڈولی کو کہتے ہیں۔

بیعت:

  اپنے والد گرامی کے حکم مطابق سید محمد شاہ گیلانی کے دست بیعت ہوئے۔  تاہم فیوضات و برکات کا سلسلہ اپنے والد گرامی سے  جوڑے رکھا۔ استادالعلماء مفتی محمد اسماعیل  میمن سکندری کے بقول  حضرت پیر سید محمد بقا شاہ نے سلسلہ قادریہ میں سید عبدالقادر آخرین سے بیعت کی ، بعد ازاں حضرت پیر سید محمد راشد سے لیکر سب پیران پگاڑا  اپنے اپنے والد سے  دست بیعت ہوئے۔

تاہم تبرکا اپنے  خاندانی مشائخ سے  بیعت کے شواہد موجود ہیں۔

سجادہ نشینی:

حضرت پیر سید علی گوہر شاہ ثانی محافے دھنی  اپنے والد بزرگوار کے وصال کے بعد 35 سال کی عمر میں سنہ میں سجادہ نشین ہوئے۔

فیاضی :

حضرت پیر سید علی گوہر شاہ ثانی محافے دھنی  کا گھرانہ سخی اور فیاض تھا، آپ میں بھی اپنے خاندان کی جملہ  روایات موجود رہی۔ والد گرامی کے بطور وصیت اور نصیحت فرمایا تھا کہ اگر کوئی سائل سوال کرے تو دوسرا قدم اٹھانے سے پہلے اس کو عطا کرنا ہے۔  ایک  بار حضرت سید علی گوہر شاہ ثانی محافے دھنی جمعہ نماز پڑھا کر اپنے بزرگوں کی مزارات پر دعا کے لئے تشریف لے جا رہے تھے ، ابھی مقبرہ شریف میں ایک قدم رکھا ہی تھا تو آپ کو دامن کو پکڑ کر ایک سائل نے سوال کیا

 حضور! مجھے بیلوں کا جوڑا عنایت فرمائیں۔ آپ کا ایک قدم اندر اور ایک باہر تھا، خادموں کو حکم دیا  کہ اس کو بیلوں کو جوڑا دیا جائے۔ جب تک شاہی باغ سے بیل آئے اور سائل نے اپنی پسند سے  چن  لیا تب تک آپ اسی حال میں کھڑے رہے ۔ سائل کو عطا کرنے کے بعد ختم اور دعا کے لئے مقبرہ شریف میں حاضر ہوئے۔ (قلمی ملفوظات پیر سید شاھ مردان شاھ)

محافے دھنی

نمایان کارنامے:

حضرت پیر سید علی گوہر شاہ ثانی محافے دھنی اپنے والد گرامی  کے وقت میں خانقاہ مبارک کے انتظام کے عام مختار تھے۔ کام کاج میں  خود ہاتھ بٹاتے تھے۔  ( جامعہ راشدیہ جا پنجاہ  سال 186)

دردمند دل کے صاحب:

حضرت پیر سید علی گوہر شاہ ثانی محافے دھنی  شریعت مطہرہ  پر   سختی سے عمل پیرا رہے۔ عشق رسول  کی تڑپ کے ساتھ فنا فی اللہ کے مقام کے صاحب تھے۔   حضرت سید علی گوہر شاہ ثانی محافے دھنی کی حساس اور دردمند دل کی عکاسی کا ایک معروف واقعہ تذکروں میں ملتا ہے کہ ایک بار کسی مولوی صاحب کے ہاں کھانے کی دعوت پر گئے ۔

کھانا کھانے کے بعد آپ نے مولوی صاحب کی لئے دعاکی اور پھر مولوی صاحب سے دعا  کروائی تو جناب نے  دعا  کو بڑا طول دیا، آپ کی دل میں آ رہا تھا کہ اب بس بھی کرے، جب دعا پوری ہوئی تو آپ نے پھر ہاتھ اٹھا کر دعا میں فقظ ایک سندہی شعر پڑھا:

بي دردن کي درد ڪو ڏاتر منهنجا ڏي

سڌ جنين نه سور جي، مر سڪي چکن سي

یعنی:  اے میرے داتا! بے درد لوگوں کو درد عطا فرما، جن کو درد  سے آشنائی نہیں انہیں ان  کی لذت حاصل ہو۔

حر تحریک:   

حضرت پیر سید علی گوہر شاہ ثانی محافے دھنی  کے دور سجادگی سے دو سال حروں نے مختلف جتھوں کی صورت میں انگریز سے مزاحمت کی ابتدا کی۔ جن  میں حرتحریک  کے مجاہدوں میں سے “بارنہن بہروٹیہ” ( بارہ افراد) نے سانگھڑ کے مکھی بیلہ میں  متوازی حکومت قائم کر کے انگریز کے ناک میں دم کر رکھا تھا۔ بارہ افراد پر  مشتمل  اس حکومت میں بچو بادشاہ، پیرو  وسان  ، تگیہ فقیر چانگ، گلو گورنر،  بھلو گاہو، مصری گاہو، عثمان ہنگورہ، عیسیٰ ڈاہری، خمیسہ وسان، سومار گاہو، پھتلو قاضی  اور رانا وسان شامل تھے۔  

 بچو اس حکومت میں بادشاہ، پیرو وزیر اعظم،  باقی دربار کے وزیر، امیر ، منشی اور کوٹوال تھے۔ جن کو حکمرانی کے ساتھ محصول وصول کرنا اور محکمہ فنانس   کے فرائض ملے تھے۔  بارہ افراد پر یہ مشتمل گروہ انگریز حکومت کے خلاف کاروائیاں کرتا تھا تاہم علاقہ کے مکینوں کی حفاظت اور  سلامتی کے لئے کام کرتے تھے۔ جہاں کہیں ظلم ہوتا تو یہ حکومت ان کو انصاف دلاتی تھی۔ ضرورتمند لوگوں کی مدد بھی کرتی تھی۔ 

1890ء سے 1896 ء تک حروں کی منظم کاروائیوں نے انگریز حکومت کو   لوہے کے  چنے چبوائے۔ پھر مجبور ہو کر انگریز حکومت نے حضرت پیر صاحب سے مدد طلب کی۔ اور حروں کو پیش ہونے پر معافی کا عہد کیا۔ جب یہ 12 افراد پیر صاحب کے حکم پر حکومت کے سامنے پیش ہوئے تو انگریز نے بد عہدی دکھائی اور دھوکہ سے ان حروں کو شہید کردیا۔  یہ بات حضرت پیر صاحب کے طبع نازک پر گراں گزری ، جس کے باعث آپ علیل ہوئے، اپنے حروں کی اس شہادت اور انگریز کی عیاری نے حضرت پیر صاحب  کو بڑا دکھی کیا۔ پھر آپ  سنبھل نہ سکے، یہ ہی غم آپ کے وصال کا سبب بنا۔

محافے دھنی

وصال

حضرت پیر سید علی گوہر شاہ ثانی محافے دھنی  کو کوئی اولاد نہیں تھی ، آخر عمر میں علالت کے باعث آپ نے اپنے برادر حضرت سید شاہ مردان شاہ اول کو ولی عہد مقرر فرمایا۔  جس کے لئے آپ نے  وصیت نامہ تحریر کروایا۔ اور حر جماعت کے سرکردہ افراد کو بھی اس پہ عمل کرنے کی تاکید فرمائی۔ آپ  24 جمادی الاخریٰ 1314 ہجری میں  وصال فرما گئے۔ اپنے اسلاف کے ساتھ  روضہ مبارک میں آرامی ہوئے۔

1 thought on “حضرت پیر سید علی گوہر شاہ ثانی محافے  دھنی  پیر پگاڑا چہارم”

Leave a Comment