ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ
حضرت پیرسائیں سید علی گوہر شاہ اول بنگلہ دھنی کا تعلق خاندان پیران پگارہ سے ہے۔
خاندان پیران پگارہ، سندھ کا ایک معروف و محسن خاندان ہے۔ لکیاری سادات کے اس خانوادے سے سلسلہ تصوف و طریقت کے اول علمبردار پیرسید محمد بقاشاہ شہید المعروف “پٹ دھنی” تھے۔ جو قادری اور نقشبندی سلاسل سے فیضیاب تھا۔ آپ کے بعد سجادہ نشیں بزرگوں میں فیض کا یہ سلسلہ جاری ہے۔ تقدیر الٰہی سے حضرت سید محمد بقاشاہ ، شہید ہوئے، شہادت کی یہ تقسیم آپ کی اولاد کے طرف بھی منتقل ہوئی، آپ نے کچھ اشعار کہے تھے، شاعری کا یہ ورثہ بھی منتقل ہوتا رہا۔
حضرت پیرسید محمد بقا شاہ کی حویلی میں یکم رمضان ۱۱۷۰ ہجری میں ایک صالح فرزند پیرسید محمد راشد روضہ دھنی تولد ہوئے،جو بڑے عالم، عابد، عارف اور ولی گزرے ہیں۔ یہ صاحب فیض ، پیران پگارہ کے صف کے سالار، اس جماعت کے بانی و رہنماتھے۔ پیرسید محمد راشد اپنی جماعت (مریدوں) میں روضہ دھنی کے لقب سے معروف ہے۔ جس نے ارشاد و تلقین سے اپنی جماعت میں اسلام کی خدمت، ذکر وفکر، حوصلہ وہمت کا روح پھونکا۔ عظمت علم کی خاطر علماء کی عزت بڑھائی، تصنیف وتالیف کا سلسلہ شروع کیا، اپنی عارفانہ شاعری میں معرفت کے جوہر پروئے، جماعت کے لئے درگاہ کی بنیاد رکھی، یہاں تک کہ ان روشن ضمیر خلفاء نے ہزارہا متلاشیانِ حق کو فیضیاب کیا۔
جناب پیرسید محمد راشد رحمۃ اللہ علیہ نے سنہ ۱۱۳۴ ہجری مطابق ۱۸۱۸ء میں انتقال فرمایا۔ اس کے بعد آپ کے فرزند ارجمند سید صبغت اللہ شاہ اول جماعت کے سالار ہوئے، یہ صاحب فیض پگارا سنہ ۱۱۹۸ میں تولد ہوئے، جماعت میں تجر دھنی کے لقب سے معروف ہوئے، پیرصبغت اللہ شاہ اول جہاد کے علمبردار اور مجاہدوں کے سپہ سالار تھے۔
پیرصاحب کی درگاہ ، جہاد کا مرکز اور قلعہ بنی، سکھوں کے خلاف آپ نے نہ صرف بہادر مریدوں کا لشکر تیار کیا بلکہ آپ کی سرپرستی میں سندہ کے متعدد روشن خیال علماء اور مجاہد بھی آپ کی دعوت پر شامل ہوئے۔
آپ کو ہمیشہ ایک سنہری تلوار ساتھ ہوتی تھی، جس کی وجہ سے “سنہری دھنی” کے لقب سے بھی جانے جاتے تھے۔ عربی اور فارسی کے بہت بڑے عالم تھے، والدماجد کے کتب خانہ کی توسیع کی، سندھ کے نامور علماء اور فضلاء آپ کی صحبت سے فیضیاب ہوئے۔ سندہ میں تحریک آزادی کے علمبردار، سالار طریقت ، پیر روشن ضمیر نے ۶ رمضان ۱۲۴۶ ہجری میں انتقال فرمایا۔
آپ کے وصال کے بعد آپ کے صالح فرزند پیر سید علی گوہر شاہ اول “اصغر” بنگلہ دھنی مسند نشیں ہوئے۔ علی گوہر شاٰہ اول بنگلہ دھنی کی سوانح اور آپ کی شاعری ہی اس مضمون کا موضوع ہے، جس کا اختصار پیش کیا جاتا ہے۔
پیر سائین بنگلہ دھنی کی سوانح حیات
جناب پیرسید صبغت اللہ شاہ اول کو سات فرزند تھے، جن میں سے تیسرے نمبر پہ سید علی گوہر شاہ اول بنگلہ دھنی بروز جمعہ ۴ رجب ۱۲۳۱ ہ مطابق ۱۸۱۶ ء کو پیدا ہوئے، اس وقت پیران پگارہ کا مسکن پرانی درگاہ والی قصبہ رحیم ڈنہ کلہوڑہ میں تھی، آپ کی ولادت بھی اسی قصبہ میں ہوئی۔
تعلیم وتربیت
پیرسید علی گوہر شاٰہ اول بنگلہ دھنی کی تعلیم و تربیت ، والد گرامی کی نگرانی میں ہوئی، شروع سے ہی اس صاحبزادے کی پیشانی پر ذہانت، محبت، بردباری اور بزرگی کے آثار نمایاں تھے۔ آپ کے والد ماجد کا بہت پیار تھا، اسی لئے تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی۔ پیرسید صبغت اللہ شاہ اور دیگر مقرر استاد صاحباں نے ایسی تربیت کی کہ فارسی زبان اور ادب پر کامل مہارت حاصل ہوگئی، ساتھ میں سوچ اور فکر میں بھی بلندی پیدا ہوئی۔ جماعت کے کچھ درویش اور اہل دانش فقراء جو سندھ کے مختلف علاقہ جات میں تھے، ننھے صاحبزادہ کی خدمت میں رہے، ان کے ساتھ نشست برخواست میں اس ذہین صاحبزادہ نے سندھی زباں اور اس کی وسیع لغت پر عبور حاصل کیا،تصفیہ قلب اور بیداری مغز کا سبق والد ماجد سے ملا، اس وقت حضرت روضہ دھنی کے خلفاء میں سے خلیفہ محمود نظامانی، خلیفہ درویش اور شاعر بھی موجود تھے۔ اس کے علاوہ عبداللہ فقیر کاتیار درویش اور شاعر خادموں کی صف میں تھا۔ ایسے ماحول میں حضرت پیرعلی گوہر شاہ کی تربیت مکمل ہوئی۔
والدماجد کا وصال اور سجادہ نشینی
پیر سید علی گوہر شاہ بنگلہ دھنی اپنی تعلیم و تربیت کا زمانہ مکمل کرکے والد بزرگوار سے دست ِ بیعت ہوکر جوانی میں ابھی قدم رکھا ہی تھا کہ ۵ رمضان المبارک ۱۲۴۶ ہجری میں والد گرامی وصال فرما گئے۔ اس وقت آپ کی عمر ۱۵ سال تھی، آپ تیسرے نمبر پہ تھے، مگر والد گرامی کی شفقت اور مہربانی کی وجہ سے بڑے بھائیوں نے بھی سجادہ نشینی کے لئے آپ کے حق میں فیصلہ دیا، جس کے مطابق حضرت سید علی گوہر شاہ اول بنگلہ دھنی پگارہ سوم کی حیثیت سے مسند نشیں ہوئے۔ دورانِ سجادگی آپ نے جو کارہائے نمایاں سرانجام دیئے ، ان میں سے اہم یہ ہیں:
۔ نئی درگاہ کا بنیاد رکھ کر اس کو احسن طریقہ سے منظم اور آباد کیا۔
۔ جماعت کی خبرگیری
۔ علم کی آبیاری کی۔
۔ جماعت میں خودداری اور آزادی کا روح پھونکا۔
نئی درگاہ کی بنیاد
سجادگی کے چار سال بعد جب پیر سائیں بنگلہ دھنی کی عمر ۱۹ برس کی تھی، آپ کو ایک بڑا امتحان لاحق ہوا جس کو آپ نے کامیابی سے حل کیا۔ سنہ ۱۲۵۰ مطابق ۱۸۳۴ء میں قصبہ رحیم ڈنہ کلہوڑہ میں اصلی درگاہ کو دریاء بردی کی وجہ سے وہ قصبہ چھوڑکر دوسری جگہ پر سکونت پذیر ہونا ضروری تھا، سجادہ نشیں کی حیثیت میں پیرصاحب نے ہمت ، حوصلہ اور عزم مصمم کے ساتھ انتظامات مکمل کیے، بالآخر ۶ جمادی الاولیٰ ۱۲۵۰ ہجری کو اپنے والد ماجد اور جد امجد ( پیرسائیں سید محمد راشد) کی مزارات کو کھول کر مدفوں صندوقیں نئی مزارات کی طرف جائگیر کی، جس پر بعد میں روضہ تعمیر ہوا۔ پیرصاحب نے نئی جگہ پر درگاہ کیلیے نیا کوٹ بنایا اور نئی حویلیاں تعمیرکروائی۔ اسی طرح موجودہ درگاہ کے آپ بانی مبانی بنے، چھوٹی عمر میں یہ آپ کی بڑی کامیابی تھی، یہ تمام عمل تین چار ماہ میں خیروعافیت سے مکمل ہوا۔
سفر اور جماعت کی خبرگیری
درگاہ پاک کے بنیادی کاموں سے مطمئن ہوکر اب آپ نے ‘پیرپگاڑا’ کی حیثیت میں جماعت سے ملاقات، ان کی خبرگیری کے لئے سفر پہ روانہ ہوئے۔ سندھ سے کچھ گئے، جہاں پور بندر اور دیگر مقامات پر درگاہ پاک کے مرید تھے، وہاں سے احمد آباد اور سورت کے طرف روانہ ہوئے اور غالباً بمبئی تک گئے۔ شیخ محمد اکرام نے اپنی کتاب “موج کوثر” میں لکھا ہے کہ “مولوی نصیرالدین دہلوی اپنے رفقاء کے ساتھ ۲ اپریل ۱۸۳۵ ء کو دہلی سے روانہ ہوئے، یہ قافلہ ٹونک اجمیر، جودہپور، جیسلمیر، کوٹ کٹھاڑو اور خیرپور سے ہوتا ہوا حروں کے پیر کے مرکز “پیرجو کوٹ” پہنچا، جہاں سابق سجادہ نشیں اور حرتحریک کے بانی پیرسید صبغت اللہ شاہ اول پہلے ہی وصال فرماگئے تھے، آپ کے جانشیں پیرسید علی گوہر شاہ اول بنگلہ دھنی تھے، مگر جب مجاہدین “پیرجوکوٹ” پہنچے تو معلوم ہوا کہ پیرصاحب کچھ کے دورہ پر گئے ہوئے ہیں، پھر دوسری اطلاع ملی کہ سورت اور احمد آباد کے روانہ ہوگئے ہیں۔ اسی وجہ سے غالبا ً مولوی صاحب کی آپ سے ملاقات نہ ہوسکی۔ ( شیخ محمد اکرام، موج کوثر، ادارہ ثقافت اسلامیہ ، اشاعت نہم، ۱۹۷۵ ص ۴۶_۴۴)
مولوی نصیرالدین ۲ اپریل ۱۸۳۵ ء کو دہلی سے روانہ ہوکر ، اسی سال کی درمیاں یا آخر میں پیرصاحب کے کوٹ پر پہنچا ہوگا، یہ عیسوی سال ۱۲۵۱ ہوتا ہے، اس حوالہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ “پرانی درگاہ” (رحیم ڈنہ کلہوڑہ) سے ہجرت ، اور نئی درگاہ کی آبادی کا تمام کام چند ماہ میں پایہ تکمیل پر پہنچا ہوگا۔ پیر صاحب کا ۱۸۳۵ ء کے آغاز میں سفر پر روانگی کا امکان ہوسکتا ہے۔ اس وقت سفر کے ذرائع اونٹ اور گھوڑے تھے، پیرصاحب لاڑ کا سفر مکمل کرکے کچھ کے طرف روانہ ہوئے ہونگے۔خلیفہ نبی بخش لغاری ، جو اس وقت ساٹھ ایکسٹھ برس کی عمر کا تھا، جس نے کچھ اور کاٹھیاواڑ کے طرف طریقہ قادری کی تبلیغ کرکے پیرصاحب کی جماعت کی بنیاد رکھی، وہ اس سفر میں غالباً آپ کے ساتھ تھا۔ پیرصاحب کے تھر، لاڑ، کچھ اور کاٹھیاواڑ کے سفر کی گواہی اندرونی طرح آپ کے اس شعر میں ملتی ہے۔
“بھر پٹان۔۔”
ریگستان میں ریت کے ٹیلوں میں روجھ جانور کی آہ و بکا کا منظر آنکھوں کے مشاہدہ کا عکس ہے۔
اگرچہ رن کچھ کے نزدیک تر والے حصہ میں اس وقت روجہہ ہوتی تھیں اور ابھی تک دانہ دانہ نظر آتی ہیں، مگر روجھ کچھ اور کاٹھیاواڑ میں زیادہ ہیں۔ اس مصرع سے بھی کثرت کی تصدیق ہوتی ہے۔ پیرصاحب کاٹھیاواڑ سے آگے احمدآباد، سورت اور غالباً بمبئی گئے۔ یہ سفر ، واپسی تک کم از کم چھ ماہ سے لیکر سال کا ہوسکتاہے۔ اسی حساب سے واپسی ۱۲۵۲ہجری میں ہوگی۔
درگاہ کی تزئین وآرائش
اس سفر سے واپسی کے بعد پیرسائیں بنگلہ دھنی نے نئی درگاہ کو زیادہ آباد اور اس کی تزئین و آرائش پر توجہ دی۔ غالباً سات آٹھ برس خاص توجہ اسی محبوب مشغلہ کے طرف رہی۔ بیرونی کوٹ پہلے ہی پایہ تکمیل کو پہنچ چکا تھا( جو مولوی نصیرالدین کے حوالہ میں پیرکوٹ ہی لکھا گیا ہے) مگر حویلیوں کی توسیع، روضہ کی تکمیل، باہر مہمانوں سے ملاقات اور میزبانی کے لیے خوبصرت بنگلہ کی تعمیر ، کتب خانہ، مسجد شریف اور مکتب کی اہم تعمیرات ۱۲۵۱_۱۲۵۹ ہجری کے عرصہ میں ہوئی۔
پوری سندھ سے معزز مہماناں اور علماء کی آمدورفت سے بنگلہ کی رونق اور شہرت میں اضافہ ہوا اور اسی لحاظ سے جماعت اپنے مرشد کو اب نام کے بجائے “بنگلہ دھنی” کے لقب سے پکارنے لگی۔ دوسری طرف پیرصاحب نے علمی فضیلت اور شمع طریقت کی روشن امیری کے باوجود “فقیر ی” اختیار کی، “اکبر” ہوتے ہوئے بھی “اصغر” بنے۔ اور اسی کو اپنا تخلص بنایا۔ اسی تخلص سے درد سے پر آپ کی سندھی شاعری مشہور ومقبول ہوئی۔
فکری اور ادبی تحریک کی سربراہی
سنہ ۱۲۵۲ ہ سے ۱۲۵۸ کے آخر تک چھ سالہ دور ، پیرسائیں بنگلہ دھنی کی زندگی کا تعمیری اور نتیجہ خیز دور تھا، سفر کے بعد آپ نے درگاہ پر تعمیرات پہ توجہ دی، اسی کے ساتھ جماعت کی ذہنی اور فکری تعمیر پر خصوصی توجہ رکھی، جو آپ کی بڑی دوراندیشی تھی۔ نہ فقط اس ذہنی اور فکری تعمیر کے وسیلہ سے بزرگوں کی تصوف اور تلقین کے سلسلوں کو روشن کیا بلکہ ان کی “ملفوظات” کو محفوظ کرنے پر توجہ دی، جس وجہ سے آپ کی سربراہی میں تاریخی طور سندھ میں ایک خاص دینی اور ادبی تحریک کی آبیاری ہوئی۔
اس بلند کارنامہ کے تکمیل تک رسائی کے لئے اپنے جد امجد حضرت پیرسید محمد راشد روضہ دھنی کے بڑے خلفاء ، اپنے والد گرامی کے خاص مریدوں اور معتقدوں سے مشاورت کی، اور عملی طور اس اہم کام میں شامل رکھا۔ اس عظیم تجویز کے اہم مقصد دو تھے۔ ایک یہ کہ بڑے مرشدوں کے ارشاد وتلقین کو تحریری طور محفوظ کیا جائے، دوسرا یہ کہ وہ بڑے خلفاء اور مرید جو صاحب فیض تھے، ان کو ترغیب دی جائے کہ وہ اپنے مرشد خواہ اپنی ذاتی فکری اور ادبی ذخیرہ کو تحریری طور محفوظ کرنے پر متوجہ ہوں۔ اس کوشش کے بدولت جو تحریریں عمل میں آئیں، ان میں جو سلامتی سے ہمیں ملی ہیں ان کو سامنے رکھ کر اس فکری اور ادبی تحریک اور تجویز کا خاکہ اس طرح بنتا ہے۔
سربراہ
سجادہ نشیں مرشد مربی پیرسید علی گوہر شاٰہ اول بنگلہ دھنی اصغر
اہم درویش اور دانشمند فقراء
خلیفہ محمود فقیر نظامانی کڑیہ گھنور، فقیر عبداللہ کاتیار، خلیفہ نبی بخش خان لغاری اور خلیفہ گل محمد سانونی۔
دیگر معتمد خلفاء اور فقراء
جو بڑی عمر کے تھےاور سندھ خواہ کچھ ، کاٹھیاواے اور بلوچستان میں موجود تھے اور جن کے پاس گزشتہ بزرگوں کی ہدایات اور نصیحتیں محفوظ تھیں۔
خلیفہ محمود صاحب، حضرت روضہ دھنی کے بڑے خلیفہ تھے، آپ عالم، عارف اور صاحب فیض تھے، پیر سائیں بنگلہ دھنی کے پاس خلیفہ صاحب کا مقام و مرتبہ کا یہ عالم تھا کہ آپ نے خلیفہ صاحب کو “عارف بالصفات واصل بالذات” جیسے الفاظ سے یاد کیا ہے۔ خلیفہ صاحب کو فرمایا کہ وہ حضرت پیرسید محمد راشد روضہ دھنی کے طریقہ کی تفصیل کے ساتھ توضیح و تشریح کرے ، خلیفہ صاحب نے اس ارشاد موجب یہ کام ہاتھ میں لیا اور حضرت پیرسید محمد راشد روضہ دھنی کے قادری اور نقشبندی طریقوں کے اتفاق وا تحاد کی راہ ہدایت کو اپنی کتاب “المحبوبیۃ المحمودیہ” میں احسن طریقہ سے سمجھایا۔ خلیفہ صاحب نے یہ کتاب حضرت علی گوہر شاہ اول بنگلہ دھنی کی ایماء اور ارشاد پہ لکھی اور مکمل کی۔ مقدمہ میں لکھا ہے کہ جناب پیرسید علی گوہر شاہ کا مجھے ارشاد ہوا کہ:
“آنچہ اشغالات سلوک طریق آنحضرت (سید محمد راشد) کہ مجمل مجموع اند تو ضیح وتشریح شان نسبت قلم تفصیل آن گماشتہ شود۔”
پیرسائیں بنگلہ دھنی خود نے حضرت پیرسیدمحمد راشد روضہ دھنی کے فرزند اور سجادہ نشین، اور اپنے والدگرامی پیرسید صبغت اللہ شاہ اول کی “ملفوظات” کی ترتیب کا ذمہ لیا۔ جس میں قریبی اور معتمد خلفاء اور فقراء شامل رہے۔ پیرسید صبغت اللہ شاہ اول کی ہدایات اور نصیحتیں جو ان کو یادتھیں، پیرصاحب تک پہنچائی، اس سلسلہ میں دو بڑے محبوں نے خاص مدد کی۔ ایک فقیر سائیں عبداللہ کاتیار “ملفوظات” کے نام کے راز کو کھولا، خلیفہ نبی بخش کی کوشش سے لاڑ، کچھ اور کاٹھیاواڑ کے فقیروں سے پیر سید صبغت اللہ شاہ اول کی ملفوظات کی روایات پیر صاحب کو موصول ہوئیں۔ علی گوہر شاہ اول بنگلہ دھنی نے ملفوظات کے آغاز میں یہ رقم کیا ہے کہ ملفوظات ، جمع کرتے ہوئے یہ خیال آیا کہ بڑے پیر سائیں (سید صبغت اللہ شاہ اول) کا ذکر کرتے ہوئے ادب و احترام سے کیا نام لیا جائے ، جب اس کی متعلق مشاورت کی تو کچھ احباب نے”ختم العارفین” کالقب تجویز کیا، بعض نے اور لقب ۔ یہاں تک پیرصاحب لکھتے ہیں
“فقیر عبداللہ شاعر جو عاشق صادق اور راسخ طالب تھا، اس نے حضرت سید محمد راشد روضہ دھنی سے حالتِ کشف میں معلوم کیا ، آپ نے فقیر عبداللہ کو اس مسکین کے لئے پیغام دیتے ہوئے فرمایا کہ ہم “یار بڑے” کو “خلیفۃ اللہ” کے لقب سے یاد کرتے ہیں ، آپ کو بھی اجازت ہے کہ ہماری طرح بُلائیں۔
درحقیقت حضرت روضہ دھنی خود اپنے حیات میں ایسے کرتے تھے کہ آپ کو ( غائبانہ ) “یار بڑے” پکارتے تھے۔
عبداللہ فقیر کے اسی کشف مطابق اصغرسائیں نے ، پوری ملفوظات میں والد گرامی کو “حضرت خلیفۃ اللہ” لکھا ہے۔
فقیر عبداللہ کاتیارکے بلند کشف کی روحانی منزل کا ذکر ، اصغرسائیں کی عبارت سے عیاں ہے۔ جس سے فقیر کی سوانح متعلق دیگر اہم نتائج بھی اخذ ہوتے ہیں۔ سنہ ۱۲۵۲ ہ میں ( رجب سے قبل) جب ملفوظات شریف مرتب ہوچکی تھی ، علی گوہر شاٰہ اول بنگلہ دھنی نے اس کا مقدمہ لکھا، تب یہ ذکر کیا۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فقیر عبداللہ اس وقت حیات نہ تھے، پہلے وصال فرماگئے تھے (یکی از عاشقان صادقان و طالبان واثقان بود) ملفوظات کی ترتیب وتکمیل ۱۲۵۵ میں ہوئی، مگر اس کا آغاز حضرت علی گوہر شاہ اول بنگلہ دھنی نے والد ماجد کے وصال اور سجادگی کے فوراً بعد ۱۲۴۶ہ کو کیا تھا۔ اس وقت عبداللہ فقیر زندہ تھے، فقیر متعلق حضرت علی گوہر شاٰہ اول بنگلہ دھنی کی اس عبارت سے اندازہ ہوتا ہے کہ عبداللہ فقیر کافی پہلے وفات پا چکے تھے۔ اندازاً فقیر عبداللہ ۱۲۵۰_۱۲۵۱ ہ کے میں وصال فرماگئے۔

اور ملفوظات شریف میں فقیر کے ذکرمیں خاتمہ والی عبارت ” بڑی عمر میں وفات پائی” ۔ اس عبارت سے ظاہر ہوتا ہے کہ فقیر عبداللہ کا روحانی رشتہ ، حضرت روضہ دھنی سے تھا کہ عالم جاودانی میں بھی حضرت روضہ دھنی نے فقیر عبداللہ سے یہ روحانی رشتہ قائم رکھا۔ اس کے وسیلہ سے حضرت اصغرسائیں کی محبت بھری راہنمائی کی۔ پیرسائیں روضہ دھنی کے دور میں اکابر عارفین اور درویش مریدوں میں سے عبداللہ فقیر دوسرے نمبر پہ تھے، جس نے علی گوہر شاہ اول بنگلہ دھنی کے زمانہ میں وفات کی۔
خلیفہ محمود اور خلیفہ نبی بخش دونوں حضرت پیرسائیں روضہ دھنی کے خلیفے تھے،وہ بھی فقیر عبداللہ کے پچیس تیس برس بعد فوت ہوئے۔ فقیر عبداللہ کی صادق عشاق والی صداقت اور حقیقی طالبوں کی تقویٰ سے اتنے متاثر تھے کہ فقیر کے “کشف” پر کامل اعتماد رکھا۔ فقیر عبداللہ کی شاعری میں رندوں کی توکل اور استغنا کے ساتھ معنیٰ اور معرفت کے موتی پروئے ہوئے تھے ، اس میں بھی حضرت اصغرسائیں ، فقیر عبداللہ کے فکر اور کلام سے متاثر تھے۔
فرزند ارجمند کی ولادت
سنہ ۱۲۵۸ ہجری حضرت پیر سائیں بنگلہ دھنی کے لیے مبارک رہا، کہ ماہ شوال میں ۱۸ تاریخ کو اللہ تعالیٰ نے فرزند ارجمند عطا فرمایا، جس کانام اپنے والد گرامی سے حاصل جہاد کی تعلیم و تلقین موجب “حزب اللہ شاہ” رکھا۔ اپنے اکلوتے فرزند کو ایسی قلبی دعا دی کہ دلیری ، دانائی اور دانشمندی میں سبقت لے گئے، پیران پگارہ کے نام اور درگاہ پاک کی ناموس کو روشن کیا۔
سیاسی مخالفت
ماہ محرم سنہ ۱۲۵۹ ہجری ( ۱۸۴۳ء ) کو انگریز سامراج نے سندھ کے امراء کو گرفتار کرکے نظربند کیا۔ والی ء خیرپورریاست میررستم خان ٹالپر کی جگہ اپنے خیرخواہ میر علی مراد خان کو جانشین کیااور انہیں بعض غلط اقدام اٹھانے پر مجبور کیا،جن میں ایک یہ تھا کہ میر، پیرصاحب پگارا کے خلاف اپنااثرورسوخ اور حکمت عملی استعمال کرے۔ انگریز کو ہندوستان کی سیاسی سطح پر یہ سب کچھ معلوم ہو چکا تھا کہ سند ھ میں اسلام کی سربلندی کی تحریک اور جہاد کا اہم مرکز پیرصاحبان کی دینی درگاہ تھی او ر جہاد کا سپہ سالار سید صبغت اللہ شاہ ہی تھا اور اب مسند نشیں پیرعلی گوہر شاٰہ اول بنگلہ دھنی اصغر تھے۔
قلیل مدت میں چھوٹی عمر میں پیرسید علی گوہر شاہ بنگلہ دھنی کی علمی ، دینی اور دنیوی کامیابی نے جماعت میں اضافہ کیا اور مضبوط ہوئی اور پیرسائیں بنگلہ دھنی کو سندھ کے روشن خیال حلقہ جات اور علمی طبقوں میں مقبولیت حاصل ہوئی۔ آپ کی یہ کامیابی سند ھ کے آزادی کے دور میں بے بہا تھی۔ مگر انگریز کے سندھ پر غاصبانہ قبضہ کی وجہ سے سندھ کے بااثر اور روشن خیال طبقے انگریز کی آنکھوں میں۔۔۔۔۔ غیر ان کے اثرورسوخ ، نیکی اور ناموس کو ختم کرنے کے لئے کمربند ہوئے۔ اپنے سامراجی عزائم کو کامیاب کرنے ، سندھ کے قابل امراء کو زیرکرنے کے لئے دیگر خود غرض امراض کو آگے لائے۔ روشن خیال خاندانوں اور شخصیات کی عزت و عظمت کم کرنے کے لئےخاندان کے ہی خود غرض لوگوں کو استعمال کیا۔
پیرصاحب کا کوٹ جو تاریخی طور آزادی کے علمبردار، سندھ کے روحانی پیشوا کا مقامِ مسند اور آزادی کی تحریک کا مرکز تھا، انگریز نے اس مرکز کی مسند نشینی پر نظر رکھنی تھی۔ خصوصاً اس وجہ سے کہ سجادہ نشیں پیرصاحب پگارا سید علی گوہر شاہ اول بنگلہ دھنی کہ چمکتے ہوئے ستارے کی مانند تھا، اور آپ کی عزت اور عظمت کے ساتھ جماعت زیادہ طاقتور ہو رہی تھی۔ انہوں نے یہ کام میرعلی مراد کو سونپا۔ کیونکہ نئی درگاہ میر علی مراد کی ریاست کی حدود میں تھی۔میر، انگریز کو خوش کرنے کے لئے لاچار ہوکر پیرصاحب پگارا کے خلاف اپنی حکمت عملی کا آغاز کیا۔ پیر صاحب کی جماعت کو طاقت تھی کہ میر سے مقابلہ
کرسکے، مگر پیرصاحب بڑے دانا اور دور اندیش تھے سوچا کہ میر سے مقابلہ کی صورت میں غیر (انگریز) کی حکومت کو فائدہ ملےگا۔
اسی وجہ سے آپ ہجرت فرما کر دریا ء کے اس طرف ( موجودہ لاڑکانہ ضلع میں) مقیم ہوئے۔ میرصاحب نے جو کیا وہ مجبوری میں تھا۔ اب پیرصاحب نے ان سے منہ مو ڑکر جب ہجرت فرمائی تو میرصاحب بڑے پشیماں ہوئے ، پیرصاحب کی طرف پیغام اور قاصد بھیجنے شروع کیئے، بالآخر معافی نامہ کا خط لکھ کر پیرصاحب کواستدعا کی کہ درگاہ مبارک پر واپس آئیں۔ پھر آپ واپس آئے، لہذا یقین سے معلوم نہیں البتہ یہ ہجرت انگریز کے قبضہ کے بعد اندازً ۱۲۵۸ سے ۱۲۶۰ ہجری (۱۸۴۳_۱۸۴۴) کے زمانہ میں ہوئی۔

ہجرت
سندھ پر انگریز کے قبضہ اور میرعلی مراد کی مسابقت سبب حضرت پیرسائیں نے ۱۲۵۹ ء سے لیکر زندگی کے باقی پانچ سال جماعت کی خبرگیری، رہنمائی اور اپنی علمی خدمت اور خلق خدا کی خیرخواہی میں صرف کیے۔ پندرہ سال کی کم عمری میں سجادگی کی ذمیداری ، آنے والے وقت کے امتحان، نئی درگاہ کی آبادی، حکمرانوں کے رویہ کی وجہ سے ہجرت، یہ ایسے بوجھ تھے جو بہت گراں تھے، مگر جناب پیر سائیں بنگلہ دھنی نے بڑی ہمت اور حوصلہ کا مظاہرہ کیا، البتہ یہ وجوہات آپ کی درد بھری دل اور نازک طبع پر اثر انداز ہوئے ، یہاں زمینی حیات کے فقط ۳۲ برس پورے ہوئے تھے کہ داعی اجل کو لبیک کہا، ۱۱ جمادی
الاول ۱۲۶۳ ہجری ( ۱۸۴۵) آپ کا وصال ہوا۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔ تاریخ وصال فقیر عبدالقادر بیکس کے اس منظوم قطعہ میں ہے۔
جناب پیر علی گوہرآن کریم ورشید
چوں رمز ارجی ز درگہ فراز شنید
گذاشت جسم دریں دام گاہ ناسوتی
بہ سوئے گلشن لاہوت مرغ ِ جانش پرید
بتافت رخ ز ظہورات آں سراپا نور
بیافت معنیٰ و سیمرغ وش نہاں گردید
دل چوں سال وصالش بجست ہاتف گفت
چوبودہ در طلب رب قرب رب برسید
۱۲۶۳
1 thought on “حضرت پیر سید علی گوہر شاہ اول بنگلہ دھنی پیر پگاڑہ دوم”