جامعہ راشدیہ کا تفصیلی تعارف

جامعہ راشدیہ خانقاہ راشدیہ کا ایک عظیم دینی علمی ادارہ ہے جو سوا سو سال سے دینی اور علمی خدمات میں مصروف عمل ہے۔ اس مضمون پر جامعہ راشدیہ کا تفصیلی تعارف پیش خدمت ہے۔

جامعہ راشدیہ کا قیام

برصغیر میں سلسلہ قادریہ کے فروغ میں  حضرت سید محمد راشد روضہ دہنی کا نمایاں کردار ہے۔ آپ کو بارہویں صدی کا مجدد کہا جاتا ہے۔ سلسلہ قادریہ اور نقشبندیہ کے امتزاج سے آپ نے “تحریک ذکر اللہ اور احیائے  سنت  ”  کا آغاز کیا ۔ 1198 ہجری سے 1234 تک برصغیر کے لاکھوں لوگ آپ کے حلقہ ارادت میں داخل ہوئے۔ جس کی تربیت میں آپ نے سب سے اول شریعت کو رکھا۔ جس کے لئے آپ نے کہا کہ شریعت ہمارے سر کا تاج ہے۔ کوئی کتنی بھی کمال کی دعوی کرے اگر شریعت پر عمل نہیں تو وہ ناقص ہے۔ آپ نے اپنے ارادتمندوں کی دینی اور روحانی  ترتیب اس انداز میں کی کہ وہ جماعت آگےچل کر اتقیاء اور مجاہدین  کی جماعت بنی۔

حضرت سید محمد راشد روضہ دہنی جو خانقاہ پیران پگارا کے بانی  ہیں اپنے وقت کے بڑے عالم ، عارف اور بزرگ تھے۔ آپ نے سندھ کے معروف مدارس اور علمائے کرام سے تعلیم حاصل کی۔   روحانی جماعت کی تربیت اور کثیر اسفار میں ارشادو تلقین اور تبلیغ کے ساتھ جمع الجوامع ( ضخیم فارسی لغت) ، شرح اسماء اللہ الحسنی  ( جو اپنی نوعیت کی ایک منفرد کتاب ہے) کی تصنیف کی۔ آپ کی مکتوبات جو آپ کے باکمال مرید خلیفہ محمود فقیر نظامانی نے مرتب کی۔ جو آپ کے علمی کمال کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

مجمع الفیوضات آپ کی ملفوظات تصوف کا ایک شہپارہ ہے۔  آپ کے وصال 1234 ہجری کے بعد  پیر سید صبغت اللہ شاہ اول ، پہلے پیر پگاڑہ (سجادہ نشین)  بنے۔ پیر صبغت اللہ شاہ کی علمی اورعرفانی تعلیم وتربیت خود والد گرامی نے کی۔ پیر صاحب  اپنے دور کے بڑے عالم اور مجاہد تھے۔ خانقاہ پر عظیم الشان کتب خانہ کا آغاز کیا۔

مہنگے داموں پر دوردراز سے کتب منگوائے۔   سلسلہ قادریہ کے مزید فروغ کے ساتھ  آپ نے اپنی جماعت کو عملی جہاد کے لئے  تیار کیا۔ سکھ حکمران کے خلاف آپ کی جہادی کوششوں سے برصغیر کے بڑے عالم اور مشائخ متاثر ہوئے۔ آپ 12 سال مسند نشین رہے۔ 1246 ہجری میں آپ کے وصال کے بعد پیر سید علی گوہر شاہ اول پیرپگاڑہ دوم بنے ۔ بقول عالمی شہرت یافتہ سندھی اسکالر ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ   ، آپ نے ایک ادبی اور فکری تحریک کی بنیاد رکھی۔

جس میں اپنے اسلاف کے بڑے خلفاء خلیفہ محمود فقیر نظامانی، خلیفہ نبی بخش لغاری، عبداللہ فقیر کاتیار جیسے  اہل علم و ادب لوگ شامل تھے۔ جس تحریک کے تحت اس  خانوادہ کے تمام ملفوظات اور مکتوبات جمع ہوئی۔ پیر علی گوہر شاہ اول خود نے اپنے والد کی ملفوظات اور مکتوبات کو جمع کیا۔  سندھی زبان میں اپنا  دیوان مرتب کیا۔  پیر صاحب کے سجادگی کے ایام میں برصغیر پر انگریز سامراج قابض ہوگئے تھے۔

اس لئے آپ کے فرزند  پیر پگاڑہ سوم پیر سید حزب اللہ کے دور میں  خانقاہ کے روحانی اور انتظامی امور کے ساتھ  حر تحریک کا آغاز بھی ہوگیا ۔ پیر حزب اللہ شاہ نے سندھی زبان میں ایک تفسیر لکھوائی اور اپنے ہاں خانقاہ پر علمی مجالس کا قیام کیا۔ جس میں ملک کے بڑے عالم اور شعراء تشریف لاتے تھے۔  پیر صاحب خود فارسی زبان کے قادرالکلام اور صاحب دیوان شاعر تھے۔

آپ نے انگریز کی ایک مجلس میں ام الخبائث پر اپنا بھرپور موقف اور احتجاج پیش کرکے اس مجلس کا بائیکاٹ کیا۔اسی دور میں مکھی اور سانگھڑ میں حرمجاہدین کے بارہ افراد نے انگریز سامراج کے خلاف اپنی متوازی حکومت قائم کرکے   بغاوت کی۔ پیر حزب اللہ شاہ کے بعد آپ کے بیٹے پیر علی گوہر شاہ ثانی  پیرپگاڑہ چہارم بنے۔ جو بہت علیل رہتے تھے۔

۔6 سال بعد پیر سید شاہ مردان شاہ اول جو پیر سید حزب اللہ شاہ کے فرزند تھے ۔ پیرپگاڑہ پنجم کی حیثیت سے مسند سنبھالی۔  اس وقت انگریز پورے برصغیر پر اپنے پنجے گھاڑ چکے تھے۔   جنہوں نے اسکول سسٹم اور انگریزی تعلیم کو فروغ دیا۔ 

اسلامی تعلیم سے توجہ ہٹانے کے لئے انگریزی تعلیم والے افراد کو حکومت میں اہم عہدے اور مراعات ملنے لگی۔ پورے ہندوستان کی طرح سندھ کے بھی یہی حالات تھے۔ اس  پستی اور اسلامی تعلیم کی کمیابی کو دیکھ کر آپ نے 1901 میں اپنے خرچ پر خانقاہ پر دینی ادارہ “جامعہ قادریہ” کے نام سے بنیاد رکھی جو آگے چل کر “جامعہ راشدیہ ” کے نام سے موسوم ہوا۔

جامعہ راشدیہ کے ادوار

پہلا دور ، جامعہ قادریہ 1901 سے 1921

سرپرست و بانی : شمس العلماء پیر سید شاہ مردان شاہ اول کوٹ دہنی رحمۃ اللہ علیہ  

حضرت پیر سید محمد راشد روضہ دہنی  رحمۃ اللہ علیہ  کی تحریک ذکر اللہ و احیائے سنت ،  پگاڑہ اول سید صبغت اللہ شاہ اول تجر دہنی رحمۃ اللہ علیہ  کی تحریک جہاد،  پگاڑہ دوم پیر علی گوہر شاہ اول بنگلے دہنی رحمۃ اللہ علیہ  کی فکری اور ادبی تحریک، پگاڑہ سوم پیر حزب اللہ  شاہ مسند دہنی رحمۃ اللہ علیہ کی  تحریک ترک، غزی، حرجماعت کی تنظیم اوراسلامی کتب کی اشاعت، پیر پگاڑہ پنجم پیر سید شاہ مردان شاہ اول  کوٹ دہنی رحمۃ اللہ علیہ نے سندھ میں بے علمی اور دینی بے شعوری کو دیکھ  کر 1322 ہجری مطابق 1901 ء میں  ” جامعہ قادریہ ” کی بنیاد رکھی۔ 

پیر صاحب خود بڑے عالم اور عارف تھے۔ وقت کے علماء نے آپ کو شمس العلماء کاخطاب دیا تھا۔   فقہی مسائل پر آپ کی فتاوی حرف آخر تھی۔  جامعہ میں اس وقت کے نامور علمائے کرام کو مقرر کیا۔ جن میں مولانا عبدالرحمان دھامراہ، مولانا میرمحمد کھاہوڑی، مولانا میر محمد ٹالپر، علامہ مفتی سعداللہ خیرپوری ( قاضی القضاۃ ریاست خیرپور)   اور علامہ محمد احمد ڈاہری شامل تھے۔ 

جس جامعہ میں طلبہ کو تعلیم کے ساتھ ماہانہ وظیفہ بھی ملتا تھا۔ اسی جامعہ کے ایک فاضل مولانا محمد صالح مہر ، آگے چل کر اس جامعہ کا مہتمم اور جامع مسجد خانقاہ راشدیہ کا امام بنا۔ اسی طرح ملک کے دیگر اطراف میں آپ نے مدارس قائم کئے۔ ایک مدرسہ جس میں عالمی شہرت یافتہ سندھی اسکالر ڈاکٹر این اے بلوچ کے دادا نے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ 

میرپورخاص کے قریب  ڈگری میں قائم کردہ مدرسہ میں مولانا محمد جام علیانی  نے خدمات دی۔  ملک کے دیگر اطراف میں مدارس اور چھاپ خانے قائم کروائے جہاں سے اسلامی کتب کی اشاعت ہوئی۔  جو بدمذاہب اور عیسائی مشنری کے مقابل اسلامی لٹریچر کا جہاد تھا۔ جامعہ کے زیراہتمام سندھی زبان میں  پہلا تفسیر  کوثر شاہ مردان شاہ 1327 میں چھپوا کرمفت تقسیم کیا گیا۔ 

گھوٹکی میرپورماتھیلہ میں مطبع راشدی سے کئی کتب چھپے۔   کئی جگہوں پر علمائے کرام، حفاظ اور طلباء کی مالی امداد کرتےتھے۔   آپ نے جامعہ کے اہتمام میں ہرسال 27 رجب کو پورے ملک سے علمائے کرام کو ہرسال مدعو کرتے اور وعظ ونصیحت کی مجالس قائم ہوتی تھی۔  اس وقت علمائے کرام کو خلعت اور نقد ، طلباء کو لباس اور 10 روپے نذرانہ دیتے تھے جو اس زمانہ میں  بڑی مالیت تھے۔

:انوار محمدی کے مولف بشارت حسین زیدی  لکھتے ہیں

اس خانقاہ پر ہر سال 27 رجب  شب معراج عقیدت کے ساتھ منائی جاتی ہے۔ جس میں ہزارہا لوگ شریک ہوتے ہیں۔ ملک کے مشاہیر علماء اور فضلاء کو مدعو کیا جاتا ہے۔  جو کثیر تعداد میں شرکت کرتے ہیں۔ جس میں باہر کے علماء کی بڑی عزت افزائی ہوتی ہے۔  پیر سید شاہ مردان شاہ اول اپنے دسترخوان پر انہیں طعام کھلاتے ہیں۔

طعام سے قبل علماء کو قیمتی لباس زیب تن کروایا جاتاہے ، پھر عطر اور پھولوں کے چھڑکاء میں انہیں دعوت میں بلایا جاتاہے۔  رخصت کے وقت ہر عالم کو اس کے قدر مطابق نقد ہدیہ اور خلعت پیش کی جاتی ہے۔ کسی کو تو بہترین گھوڑے بھی تحفے میں پیش کئے جاتے ہیں۔   ان علمائے کرام کے کچھ نام یہ ہیں

مفتی عبدالغفور ہمایونی

مولانانظر محمد انڈھڑ

مولانا حافظ امام بخش باقرانی

مولانا سید غلام حیدر شاہ پنہواری

مفتی محمد ابراہیم گڑہی یاسین

مخدومان کھہڑہ

مولانا تاج محمد آریجوی

اس کے علاوہ آپ نے اپنے خاندانی کتب خانہ کو فروغ دیا۔ اس میں قلمی اور مطبوعہ کتب  خرید کر رکھے۔   ان ایام میں جامعہ قادریہ کے مینجر پیر سید  شاہ مردان شاہ  کوٹ دہنی رحمۃ اللہ علیہ کے بڑے فرزند سید حسین علی شاہ تھے۔  طلبہ کی خوردو نوش کے حوالے سے پیر صاحب کے تاکیدی احکام تھے۔

حضرت پیر سید شاہ مردان شاہ اول کوٹ دھنی کے دورتک یہ جامعہ قادریہ دینی اور تعلیمی خدمات سرانجام دیتا رہا۔ پھر پیر سید صبغت اللہ شاہ سورہیہ بادشا ہ  رحمۃ اللہ علیہ کے دور میں 1921 سے 1943 تک ، حرتحریک کی سرگرمیوں کے باعث خانقاہ کے دیگر معاملات کے ساتھ  جامعہ بھی تعطل کا شکار رہا۔

دوران  تحریک ، خانقاہ، مسجد، مدرسہ اور رہائشگاہ پر بمباری کی گئی۔ ریکارڈ اور کتب خانہ سے ساری کتب قلمی،  مطبوعہ انگریز سامراج نے ضبط کرکے دیگر  کتب   خانوں  میں منتقل کردی۔ جس کی وجہ سے جامعہ کے دور اول کے طلباء اور اساتذہ کا مکمل ریکارڈ نہیں مل سکا۔ اس مدرسہ کے فیض یافتہ ، امام انقلاب شہید حق و صداقت حضرت سید صبغت اللہ شاہ راشدی سورہیہ بادشاہ تھے۔

دور اول کی تعمیرات

جامعہ کی پہلی عمارت اس طرح تھی۔  عمارت کے دو اہم دروازے دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ 12 فوٹ کے کشادہ راستے کے آخر میں یہ دروازے نصب ہیں۔ ہر حصہ میں پانچ وسیع کمرے ہیں، لمبائی 26 اور چوڑائی 13 فوٹ ہے۔ چھت بلند ، دیوار کی بھرائی ڈھائی فوٹ ،  ہر کلاس روم کے چار دروازے،  تمام کمروں کے درمیان ایک درمیانی دروازہ، اور دو کھڑکیاں اس طرح کے تمام عمارت کو ایک نظر میں دیکھ سکتے ہیں۔ 

عمارت کا مشرقی حصہ  طلبہ کے قیام اور طعام کے لئے مختص  ہے۔ دونوں حصوں کے درمیاں ایک کشادہ ہال اور دو برآمدوں پر مشتمل عالیشان  کوٹھی ہے۔ جس میں جامعہ راشدیہ کے اساتذہ کے علاوہ باہر کے اہل علم وقلم کی رہائش کا بہترین انتظام ہے،  جبکہ پوری عمارت کے شمال اور جنوب میں 32 دروازوں پر مشتمل  برآمدہ  عمارت کی خوبصورتی میں اضافے کا باعث ہے۔

دوسرا دور ، جامعہ راشدیہ

 ۔1952 سے 20212 تک 

:سر پرست و بانی

حضرت پیر سید شاہ مردان پیرپگاڑا ہفتم (1952ـ2012 ء)

:مہتمم

استاد العلماء مولانا محمد صالح مہر۔  1952 سے 1976 تک

مفتی محمد رحیم سکندری   1976 ء سے 1997ء  تک

مولانا اسداللہ مہر سکندری  1997ء سے 1998   (ایک سال)

مفتی عبدالرحیم سکندری 1998 ء ( چھ ماہ)

مفتی محمد رحیم سکندری 1999 ء سے 2012 تک۔

حضرت  سید صبغت اللہ شاہ راشدی سورہیہ بادشاہ، (1909ء ـ1943ء) کی تحریک آزادی کے لئے حرتحریک کی سرگرمیوں، حضرت پیر صاحب کی نظربندی اور گرفتاری، حر جماعت کے افراد کو قید بنانا، خانقاہ پر بمباری، حرجماعت کے املاک  کی ضبطگی کا یہ سلسلہ 30 سال پر محیط ہے۔ اس دور میں باقی سلاسل کی طرح “جامعہ راشدیہ ” مکمل طور پر تعطل کا شکار ہوگیا۔ 

1947 میں پاکستان کی آزادی کے بعد بھی 4 سال سے زائد عرصہ بعد بھی حر جماعت کے افراد قید وسلاسل میں بند رہے۔ حضرت پیر صاحب کے دونوں صاحبزادوں کو  تعلیم کے بہانے جلاوطن کیا گیا۔

وزیر  اعظم لیاقت علی خان، گورنر سندھ دین محمد کشمیری اور حر جماعت کے سرکردہ افراد کی کاوشوں سے 1952ء میں یہ دونوں صاحبزادے وطن واپس تشریف لائے۔ 4 فروری 1952 کو خانقاہ شریف کی جامع مسجد میں پیرپگاڑا ہفتم کی حیثیت سے بڑے صاحبزدہ پیر سید شاہ مردان شاہ  ثانی کی دستاربندی ہوئی۔

اس تقریب میں   اس خانقاہ  کے خاندانی مرشد سید افضل شاہ گیلانی، حرجماعت کے معزز خلفاء، راشدی خاندان کے معزز افراد، مختلف خانقاہوں کے سجادہ نشین، سندھ کے معزز خاندانوں کے افراد کے علاوہ کثیر تعداد میں حر جماعت نے شرکت کی۔ سندھ کے بڑے عالم ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ اور پیر حسام الدین راشدی اس تقریب کے اسپیکر تھے۔ یہ  نیا دور حرجماعت کی خوشحالی اور ترقی کا آغاز تھا ۔

 پیر سید شاہ مردان شاہ  ثانی  رحمۃ اللہ علیہ نے  حکومت وقت سے بات چیت کر کے محض دو ماہ میں یکم اپریل 1952 سے  حرجماعت کو جیلوں اور کنسٹریشن کئمپس (باڑ کیمپس) سے آزادی دلوائی۔ 

ان ایام میں پیرجوگوٹھ کے معزز افراد حاجی فقیر اللہ جتوئی، حاجی فتح محمد میمن   حاجی امام بخش چنہ، استادالعلماء مولانا محمد صالح مہر کی معیت میں ایک مدرسہ کی ابتدا کرچکے تھے، جس کی تعلیم کے لئے امام اہلنست امام احمد رضا خان بریلوی کے نبیرہ مولانا مفتی تقدس علی خان کو مقرر کیا گیا تھا۔ 

مئی 1952 کو حضرت پیر صاحب کے حکم سے اس مدرسہ کو جامعہ راشدیہ کی پرانی عمارت میں منتقل کرکے ، اساتذہ اور طلبہ کے طعام و قیام کو انتظام ، حضرت پیرصاحب کے ذاتی لنگرخانہ سے کیا گیا۔  اس ابتدائی  مجلس عاملہ میں استاد مولانا محمد صالح مہر، استاد مفتی تقدس علی خان، چیف خلیفہ پیر صاحب پگاڑا،  سیکریٹری منشی محمد پریل سانگری، حاجی فقیر اللہ اور حاجی فتح علی میمن تھے۔

حضرت پیر صاحب پگاڑا نے حر جماعت کے طرف یہ حکم نامہ ارسال فرمایا:

مرید درگاہ صداقت آگاہ ، صاحبان صدق یقین، جملہ سالم اور فرق جماعت سلامت

بعد سلام مسنونہ واضح ہوکہ عام جماعت کی بے علمی اور جہالت  کا خیال کرتے ہوئے ہم نے درگاہ مبارک کے قدیمی مدرسہ کو  “جامعہ راشدیہ” کے نام سے جاری کیا ہے۔ جس میں فی الحال تین عالم مقرر ہیں جو قرآن ، حدیث اور فقہ وغیرہ کی دینی تعلیم عربی، فارسی، اردو اور سندھی زبان میں دے رہے ہیں اور مدرسہ کا سفیر عبدالغنی کلہوڑہ کو مقرر کیا گیا ہے۔ جماعت کے مخیر حضرات اپنی زکواۃ، صدقات، خیرات اس  مدرسہ کو  دینا۔ فقط پیرپگاڑہ۔

ابتدا میں 10 سے 15 مسافر طلبہ تھے، بعد میں یہ تعداد  بڑھتی چلی گئی۔ جامعہ راشدیہ کے اس دور میں  تیسرا استاد مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد صاحبدا خان جمالی تھے۔ طلبہ کی کثرت کے بعد مختلف اوقات میں 1976 ء تک یہ اساتذہ مدرسہ میں مقرر کئے گئے۔ استادالمعقول والمنقول سید حسین امام اختر، استاد علامہ عبدالصمد میتلو، استاد مولانا کریم بخش دایو شعبہ عربی کے لئے۔ قاری محمد حنیف سعیدی شعبہ حفظ و تجوید ، استاد  رضامحمد درویش شعبہ ناظرہ کے لئے۔

مہتمم مولانا محمد صالح مہر اور دیگر اکابر اساتذہ کے توجہ اور دلچسپی سے جامعہ راشدیہ کی علمی شہرت کا  چرچہ ملک کے طول و عرض میں پھیل گیا۔ دوردراز سے طلبہ جامعہ راشدیہ میں داخل ہوئے۔ جامعہ  کے  قابل اساتذہ نے 1955 ء سے جامعہ کو  جدید خطوط پر چلانے کی ابتدا کی۔

طلبہ کی استعداد اور علمی قابلیت میں اضافہ کے لئے تقریری اور تحریری امتحانات کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ فارسی بیت بازی  کے مقابلے منعقد کروائے گئے۔ طلبہ  میں  علمی شوق اور لگن ایسی تھی کہ بعد نماز عصر جو سیر و تفریح کے لئے مختص وقت تھا، اس میں بھی  گردان اور علمی سوالات اور مطالعہ  میں مصروف رہنے لگے۔ 

طلبہ کے  مابین علمی مقابلہ جات  میں خلیفہ محمد امین فقیر منگریہ خود بیٹھتے تھے او ر کامیاب طلبہ کو  نقد انعام دیتے تھے۔  جامعہ راشدیہ میں سب سے اول استاد مفتی محمد صاحبداد خان جمالی درس قرآن دیتے تھے۔  اس کے بعد اسمبلی میں تلاوت ، قصیدہ بردہ اور دعا کے بعد حاضری لگتی تھی۔

شعبہ عربی و فارسی کے اساتذہ مقرر تعلیم کے علاوہ استاد عبدالصمد ، طلبہ کو خطاطی سکھاتے تھے اور استاد کریم بخش  نے صرف و نحو میں طلبہ کو تیا ر کیا۔  جامعہ راشدیہ کے عظیم اساتذہ کی محنت سے  علوم شرقیہ کے امتحانات میں جامعہ کے طلباء نے پوزیشنیں حاصل کی۔ تحریری  مقابلہ میں سندھ بھر سے جامعہ کے طلبہ نے کامیابی بلکہ ملکی  سطح پر پوزیشن لیتے تھے۔

جامعہ راشدیہ سے  نامور سکندری علمائے کرام  تیار ہوئے۔ جن میں سابق مہتمم جامعہ ، شیخ الحدیث مفتی محمد رحیم سکندری، رئیس المناظرین خطیب پاکسان مفتی عبدالرحیم سکندری، فقیہ مفتی درمحمد سکندری،  خطیب مفتی عبدالواحد سکندری،  مولانا سید غوث محمد شاہ، مفتی عبدالخالق سکندری،   ڈاکٹر مخدوم منورالدین  اور دیگر  ۔

1967 تک جب جامعہ راشدیہ کے فارغ التحصیل علمائے کرام کی تعداد زیادہ ہوگئی تو  جامعہ کے سرپرست اور بانی حضرت پیرصاحب پگاڑہ کے عرفی نام سید سکندرعلی شاہ کی نسبت سے  سکندری کا ٹائٹل اور ان کی جمعیت کا قیام عمل میں لایا گیا۔  اور ان کے ساتھ نشرواشاعت کے شعبہ کا آغاز کیا گیا جس میں سب سے اول امام العارفین پیر سید محمد راشد روضہ دہنی کی فارسی ملفوظات کا سندھی ترجمہ شروع ہوا۔

اسی کے ساتھ طلبہ کے لئے جامعہ راشدیہ میں نئی ہاسٹل اور کتب خانہ کی بنیاد رکھی گئی۔ اس کتب خانہ میں 10 ہزار کے قریب کتاب رکھے گئے،  درسی اور غیر درسی کتب کی جلد بندی  کراچی ناظم آباد کی ایک معروف جلد ساز سے اور بعد میں کنڈیارو کے محمد یامین  جلدی سازی کرتے تھے ۔   بعد میں جلد سازی کا شعبہ جامعہ راشدیہ میں قائم ہوا۔

1976 تک جامعہ راشدیہ سے 174 علمائے کرام فارغ التحصیل ہوگئے تھے۔ اسی دور میں جامعہ کے فضلاء اور مہتمم صاحب کی کوششوں سے سانگھڑ میں صبغت الاسلام، شاہپورچاکر میں صبغت الہدی اور شہدادپور میں مدرسہ قادریہ ، سومر فقر ہنگورہ میں  صبغت الفیض  نامی برانچز کا قیام ہوا۔

جامعہ راشدیہ کے اہتمام، جامع مسجد کی امامت کے ساتھ ، مولانا محمد صالح مہر  حرجماعت کے چیف جسٹس تھے، فیصلوں کے لئے جامعہ کے ایک طرف کمیٹی ہال تھا ، جس میں حضرت پیر صاحب پگاڑا کے حکم سے مقدمات سنتے اور فیصلے فرماتے تھے۔

استاد مولانا محمد صالح مہر مہتمم تھے ، مگر تمام اساتذہ  اور پیر صاحب پگاڑا کے خلفاء ، طلبہ پر شفیق ہوتے تھے ، ان کی خورد ونوش، علاج معالجہ کے ساتھ خبرگیری کرتے تھے۔

اسی عرصہ  میں مفتی محمد صاحبداد خان، استاد حسین امام اختر کے وصال کے بعد 1976 ء میں مہتمم مولانا محمد صالح مہر اور اس سے قبل خلیفہ فقیر محمد امین منگریہ کو شہید کیا گیا۔

استاد   مولانا محمد صالح مہر نے اپنی تمام تر صلاحیات جامعہ راشدیہ اور خانقاہ کے لئے وقف کی ،  اپنے شاگردوں میں ایک باصلاحیت علماء کے جماعت تیار کی۔ آپ نے اپنی زندگی میں جامعہ کے نئے مہتمم کے لئے ، ایک ہونہار طالبعلم مفتی محمد رحیم سکندری کا نام ، حضرت پیرصاحب پگاڑا کی خدمت میں پیش کیا تھا۔   مولانا محمد صالح مہر کے وصال کے بعد مفتی محمد رحیم سکندری جامعہ کے نئے مہتمم، اور خانقاہ کے خطیب وامام بنے۔  مفتی محمد رحیم صاحب کی معیت میں اس کے استاد مفتی تقدس علی خان  ، مفتی عبدالخالق سکندری، قاری محمد حنیف سعیدی اور دیگر اساتذہ کرام تھے۔

مفتی محمد رحیم سکندری جامعہ راشدیہ کے  قابل  فخر تلامذہ میں تھے۔ آپ نے 45 سال تک مسند حدیث پر خدمات دی۔  اس دور میں جامعہ کے علمائے کرام کی تعداد ہزار سے زائد، حفاظ کی تعدا د 5 ہزارسے زائد، قراء کی تعداد 1 ہزار سے زائد، ناظرہ و پرائمری کے 30 ہزار سے زائد تعداد پہنچی۔

جامعہ راشدیہ کی برانچر کی تعداد 200 کے قریب پہنچی۔  شعبہ نشرواشاعت میں خانقاہ کی تمام کتب، سندھی ترجمہ قرآن، ترجمہ حدیث اور فقہی مسائل پر کتب چھپی۔ جمعیت  علمائے سکندریہ اور جامعہ راشدیہ  سے ماہنامہ سندھی جریدے “الراشد” کا اجراء ہوا ، جس کے 300 سے زائد شمارے چھپ چکے ہیں۔  اسی طرح جامعہ راشدیہ کی برانچز میں  شعبہ نشرواشاعت اور دارلافتاء قائم ہوئے۔

مفتی محمد رحیم سکندری کے اہتمام  میں جامعہ راشدیہ تنظیم المدارس (اہلسنت) پاکستان سے ملحق ہوا۔ جامعہ کی ڈگری کو شاہ عبداللطیف یونیورسٹی سے ایم اے کا مساوی درجہ ملا۔ جامعہ کے مہتمم کو شاہ عبداللطیف یونیورسٹی میں  سنڈیکیٹ کا ممبر بنایا گیا۔ 

جامعہ راشدیہ کے امتحانی بورڈ  کا قیام عمل میں آیا۔

جامعہ راشدیہ کی عمارت کلاس رومز اور ہاسٹلز کی تعمیر نو ہوئی۔

لئبریری کے لئے نئے کتب کی خریداری اور کتب خانہ نئی لئبریری کے طرف منتقل ہوا۔

فیصلہ کمیٹی کو  جامعہ راشدیہ سے الگ  عمارت دلوائی۔

 طلبہ کی بڑھتی تعداد کے مدنظر جامعہ کے لئے  نئے پلاٹ   کی خریداری کرکے  تعمیرات کی گئی۔

اساتذہ کے لئے گھر کا  انتظام کر کے  ایک الگ کالونی مختص کروائی۔

جامعہ کے فضلاء کو سرکاری محمکہ جات میں تعین کروایاگیا۔

جامعہ راشدیہ کے فضلاء کو ملکی اور غیر ملکی یونیورسٹیز سے ایم فل، پی ایچھ ڈی کروائی گئی۔

جامعہ راشدیہ کے طلبہ کو  مزید تعلیم کے لئے عرب ممالک میں بھیجا گیا۔

جامعہ راشدیہ کے اساتذہ جو 1976 سے  2012 تک  مقرر ہوئے  ان میں  علامہ محمد علی ازہری،  مفتی تقدس علی خان بریلوی، مفتی عبدالخالق سکندری، مفتی محمد شفیع جن پوری،   مفتی غلام قادر سکندری، مولانا  حاجی میر محمد سکندری، قاری محمد حنیف سعیدی، مفتی محمد اسماعیل سکندری، مفتی غلام شبیر سکندری، مولانا ارشاد احمد، مولانا منظواحمد سعیدی، مفتی عبداللطیف سکندری، 

مولانا غلام محمد باروی،  مفتی فیض محمد سکندری،   مولانا خورشید احمد ظاہر پیر،  مولانا رضا محمد انڈھڑ،  مولانا سید غلام مجتبی شاہ، مفتی دوست علی سکندری ( موجودہ مہتمم) مفتی عنایت اللہ سکندری،  مولانا حافظ محمد عیسی سکندری، حافظ ثناء اللہ سکندری ، مولانا علی اکبر راہموں سکندری، مولانا علی اکبر مہر سکندری، مولانا نیاز حسین سکندری، مولانا محمد حسن سکندری،  مولانا معراج احمد سکندری، مولانا علی اکبر یمانی، مولانا منیراحمد یمنی، مفتی غلام حسین نقشبندی،

مولانا طارق حسین سکندری، مولانا عبدالسبحان سکندری، مفتی غلام حسین نقشبندی،   قاری عزیز احمد کوکب، حافظ محمد رمضان پنہور،  قاری عبدالرزاق، قاری محمد حسین سکندری، قاری غلام علی سکندری، قاری فیض رسول سعیدی،   قاری محمد حنیف سعیدی دوم، قاری محمد علی سکندری، قاری حافظ محمد سلیمان لاشاری،  ماسٹر تاج محمد مہر، حافظ رحمت اللہ مہر، قاری عبدالمجید سکندری،  مولانا خلیل احمد اعوان سکندری، قاری مختاراحمد سکندری۔

تیسرا  دور،  2012  سے  (تاحال)

:سرپرست وبانی

حضرت پیرسید صبغت اللہ شاہ راشدی پیرپگاڑا ہشتم دامت برکاتہ 

:مہتمم

مفتی محمد رحیم سکندری 2012 ء سے 2020 تک

مفتی دوست علی سکندری ، 2020ء سے   تاحال

حضرت پیر صاحب پگاڑا سید شاہ مردان شاہ ثانی  کے وصال کے بعد ہشتم پیرپگاڑہ سید صبغت اللہ شاہ ثالث، خانقاہ کے تمام سلاسل کے سرپرست بنے ۔ اسی طرح آپ ہی 2012 سے جامعہ راشدیہ کے امیربنے ۔ جامعہ مہتمم مفتی محمد رحیم سکندری کی 45 سالہ خدمات کے بعد انکی طبع ناسازی کے بنا پر ، خود مفتی صاحب کی استدعا پر جامعہ کے نئے مہتمم کے لئے ، جامعہ کے اساتذہ میں سے ایک سنجیدہ، زیرک اور متقی عالم علامہ مفتی دوست علی سکندری کو نیا مہتمم اور خانقاہ کا امام و خطیب و امام مقرر کیا گیا ہے۔ 

جامعہ راشدیہ کے اہتمام کا مسند بڑی ذمہ داری ہے۔ مفتی دوست علی صاحب نوجوان عالم دین ہیں مگر  اپنی نیک نیتی اور خلوص کی وجہ سے اس مشکل کام کو اپنے رفقاء کار کی آراء و تجاویز سے  نبھانے کی کوششوں میں مصروف عمل ہیں۔ جو حضرت مفتی محمد رحیم سکندری کا نائب بن کر دو تین سال سے اسی خدمت میں مصروف رہا ہے۔  نئے مہتمم صاحب نے جامعہ راشدیہ کے مخلص فارغ التحصیل علمائے کرام کی مشورہ جات سے  جامعہ کے شعبہ امتحانات سے اصلاح کی کوشش شروع کی ہے۔

ربیع الثانی 1442 ہجری  میں گزشتہ سال کے فارغ التحصیل طلبہ کی دستاربندی کے بعد امسال کے فارغ التحصیل طلبہ کی آسانی کے لئے  مختلف بڑے شہروں میں امتحانی مراکز قائم کئے۔  علمائے کرام کا سالانہ امتحان جامعہ راشدیہ میں منعقد کروایا، ان امتحانات میں جو کامیاب ہوئے ان کی دستاربندی خانقاہ راشدیہ پر کرائی گئی۔ 

باقی طلبہ جو ہزاروں کے تعداد میں ہیں ، ان کے امتحانات کے لئے مختلف مراکز قائم کئے ہوئے جہاں شعبان المعظم میں امتحان ہوں گے۔  اس کے علاوہ بزرگ اساتذہ اور سابق مہتمم صاحبان نے جو شعبہ جات قائم کئے تھے انکی اصلاح   و توسیع اور جامعہ راشدیہ کے نئی عمارت ، جامعہ راشدیہ کے نئے سرکاری بورڈکی منظوری پر کام کا آغاز ہوچکا ہے۔ ان شاء اللہ آئندہ ایام میں یہ جامعہ ملک کے قدیم و جدید علوم کا امتزاجی جامعہ ہوگا، جو اپنے معیار سے اہل وطن کو مستفید کرے گا۔

پس نوشت

جامعہ راشدیہ کی نئی عمارت اب تعمیر ہونے والی ہے۔ جس کے لئے اعلیٰ حضرت پیرصاحب پگاڑا ہشتم دامت برکاتہم  خاص دلچسپی رکھتے ہیں۔