سندھ میں لکیاری سادات سے پیرسید محمد راشد روضہ دہنی کی اولاد اپنے جد امجد کی نسبت سے “راشدی” معروف ہے۔ حضرت پیر سید محمد راشد روضہ دہنی کے وصال کے بعد آپ کی اولاد میں سے جس کو پگڑی ملی اس کو پگاڑا اور جس کو جھنڈا ملا اس کو “جھنڈے والا” کہتے ہیں۔ پیران پگاڑا کے سلسلہ میں اول حضرت پیر سید صبغت اللہ شاہ ، اول تجر دھنی ہیں اور پیر جھنڈہ والے (صاحب العلم) میں اول برادر سید محمد یاسین شاہ ہیں۔ یہ ذکر مبارک پیران پگاڑا سلسلہ کے اول پگاڑہ کا ہے۔
ولادت و نسب
پیر سید محمد راشد روضہ دہنی نے متعدد شادیاں کی۔ ایک شادی آپ نے اپنے استاد میاں محمد اکرم گھمرہ کی دختر نیک اختر سے کی، جس کے بطن سے سید صبغت اللہ شاھ اول تجر دھنی پیدا ہوئے۔
نام و القاب
حضرت سید محمد راشد روضہ دھنی نے اپنے فرزند کا نام صبغت اللہ رکھا۔ پر آپ متعدد القاب سے یاد فرماتے تھے۔ مثلا خلیفۃ اللہ، بڑے یار، بڑے صاحبزادے، اور یار بھی کہتے تھے۔ تجر دھنی کے لقب سے آپ معروف ہیں ۔ تجر سندھی زباں میں مزار پر چھوٹے گنبد کو کہتے ہیں ۔۔ آپ نے اپنے والد گرامی کی مزار پر بنوایا تو اسی نسبت سے تجر دہنی کہتے ہیں۔ آپ کے ساتھ ہمیشہ ترار ہوتی تھی اسی وجہ سے” سنہری دہنی” بھی کہا جاتا ہے۔
تعلیم وتربیت
حضرت سید محمد راشد روضہ دہنی، اپنے صاحبزادوں کی تعلیم اور تربیت پر پوری توجہ دی۔ آپ خود بھی سفر اور حضر میں بلاناغہ سبق دیتے تھے، اور اپنی نگرانی میں اساتذہ بھی رکھے، ان ایام میں ان اساتذہ کو 20 روپیہ ماہانہ دیا جا تا تھا۔
اسی کے ساتھ آپ اچھی تربیت بھی فرماتے تھے کہ تحصیل علم کا مقصد فقط اللہ اور اس کے رسول کی رضامندی ہے۔

مجمع الفیوضات میں ہے
ایک دفعہ آپ خانقاہ شریف والی مسجد شریف میں فقیروں کے پاس تشریف فرما تھے۔ حضرت صاحبزادہ مسند نشین (تجر دھنی) انتہائی ادب کے ساتھ دور بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے فرمایا: اے بیٹے! ہم نے بیس روپے ماہوار پر استاد بٹھا کر تمہیں تعلیم دلوائی ہے، شادی کا حق بھی ادا کردیا ہے اب اگر اللہ کی طلب میں کوشش کرو گے تو بہت بہتر اور جو اللہ تعالیٰ کے راستے سے منہ موڑے گا٬ چاہے ہمارا بھائی ہو یا بیٹا٬ ہمیں اس کے ساتھ کوئی نسبت نہیں اور نہ ہی وہ ہمارا بھائی اور بیٹا ہے۔ ( ملفوظات: ص 92)
والد گرامی سفر میں صاحبزادگان کو تعلیم کی غرض سے ساتھ رکھتے تھے۔ حضرت سید صبغت اللہ شاہ تجر دھنی انتہائی ہوشیار اور قوی حافظہ کے مالک تھے۔ آپ کی تیز ذہانت کا ایک واقعہ ” خزانۃ المعرفۃ” ( ملفوظات پیر سید صبغت اللہ شاہ اول) میں درج ہے
حضرت پیر سید صبغت اللہ شاہ اول تجر دھنی خود فرماتے ہیں کہ ایک دن حضرت والد گرامی کے حضور میں حاضر تھا تو فرمایا ، بابا! قرآن پاک کو حفظ کر رہے ہو؟ میں نے عرض کی: جی تو فرمایا: کتنا حفظ کیا ہے ؟
میں نے عرض کی: 12 پارے، تو آ پ نے فرمایا ہم اپنے معمول کی تلاوت قرآن مجید کرتے ہیں آپ قرآن کریم کے حفظ میں مشغول ہوجاؤ دیکھیں ہمارے مقرر کردہ (سوا پارہ) تلاوت کے دوران آپ کتنا یاد کرسکتے ہو۔ تو جب تک آپ نے پانچ ربع تلاوت کئے تو میں سورہ الحجر (6 رکوع) حفظ کرلئے۔ پھر آپ نے مجھ سے یاد سورہ الحجر سنی۔ ( خزانۃ المعرفۃ 551 )
قوی گمان ہے کہ حفظ قرآن میں آپ کے استاد حافظ زین الدین مہیسر تھے ، جو خود پیر سید محمد راشد روضہ دہنی کے استاد اور سیدمحمد بقا شاہ شہید کے مرید تھے۔
دوسرے صاحبزادگان کی بنسبت سید صبغت اللہ شاہ تجر دھنی پر زیادہ توجہ دی گئی کیونکہ اس کو آگے اس سلسلہ کی ذمیداری آنی تھی۔ اس حوالہ سے ایک روایت ہے کہ،
ایک بار حضرت سید محمد راشد سے کسی نے سوال کیا کہ حضرتا! کیا وجہ ہے کہ جب بعض مشائخ اور بزرگ آپ کی خدمت میں ہوتے ہیں تو اس وقت آپ بڑ ے صاحبزادے متعلق کچھ نہ کچھ معترضانہ بات کرتے ہیں ؟
تو آپ نے فرمایا : لوہار ، جو ٹرک ( اپنی استعمال کا ایک لوہی آلہ) اپنے گھر کے لئے تیار کرتا ہے اس کو آگ میں زیادہ جلاتا ہے تاکہ کوئی کمی نہ رہے جائے بعد میں وہ ٹوٹ جائے۔ (اسی طرح ہم بھی اپنے لئے اس صاحبزادے کو تیار کرتے ہیں)۔ ( خزانۃ المعرفۃ 109)
سجادگی
حضرت سید صبغت اللہ شاہ اول تجر دھنی نے اپنے والد گرامی سے سلسلہ قادریہ میں بیعت ہوئے۔ تو اپنے والد گرامی کو مرشد معظم پکارتے تھے۔
والد گرامی نے اپنی حیات میں اپنے تمام فرزندوں کو یکجا کر کے پوچھا کہ ہر کوئی ایک کو اپنا بڑا بناتا ہے میری خواہش ہے کہ میری زندگی میں آپ اتفاق رائے سے بھائیوں میں سے ایک کو اپنا بڑا منتخب کرہ، تو ان میں سے ایک صاحبزادہ نے عرض کی اگر یہ حکم ہے تو سید صبغت اللہ شاہ تجر دھنی ہمارا راہنما ہے۔
تو آپ نے فرمایا : ” اس یار کو علم، ادب، عقل، دینی اور دنیوی کاموں میں بلندی بخشی ہے مگر صاحب اسباب ہے یہ بات ہمیں پسند نہیں ۔۔ یہ سنتے ہی ایک بردار سید جیئو شاہ نے مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھایا تو آپ اپنے والد گرامی کے قدموں میں گر پڑے ، والد گرامی نے راضی ہو کر دعا کی اور فرمایا یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی کمال مہربانی سے فیض کا یہ سلسلہ جاری رکھے گا۔ ( ملفوظات 769)
اسی طرح والد گرامی نے اپنی زندگی میں اپنی دستار آپ کے سر پر رکھی، اور سلسلہ قادریہ کا قدم بھی رکھا۔ (خزانۃ المعرفۃ 558)
پھر جب حضرت سید محمد راشد روضہ دہنی کا وصال ہوا تو آپ مسند نشین ہوئے اور سلسلہ کے پگاڑا اول بنے۔
علمی مقام
حضرت سید صبغت اللہ شاہ تجر دھنی کی تعلیم اور تربیت میں والد گرامی جو خود بڑے عالم و عارف تھے اور کامل اساتذہ نے کی۔ تو آپ کو دینی علوم میں مہارت تامہ حاصل تھی۔
قرآن و حدیث، فقہ، تفسیر ، تصوف کے بحر بے پایاں تھے۔ روزانہ قرآن و حدیث اور مثنوی رومی سے درس دیتے تھے۔
ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ لکھتے ہیں
“حضرت پیر سید صبغت اللہ شاہ تجر دھنی ، صاحب علم و فصل، مجاہد اسلام، حافظ قرآن، سنت اور شریعت کے پابند، ظاہری اور باطنی علوم کے جامع تھے۔ ” خزانہ 18
آپ کو کتابیں خریدنے اور جمع کرنے کا بڑا شوق تھا۔ صحیح البخاری کے نسخہ جب آیا تو شاندار استقبال کیا۔ اسی طرح جہاں سے کتاب ملتی تھی آپ حاصل کرنے کی پوری کوشش فرماتے تھے۔
سید حمید الدین فراہی نے آپ کے کتب خانہ متعلق اس طرح لکھا ہے
’’ ان کا کتب خانہ بڑا عجیب وغریب تھا سلاطین وامراء کے پاس بھی ایسا کتب خانہ نہ ہوگا پندرہ ہزار جلد کتب معتبرہ اس میں موجود ہیں۔ سو دیوان فارسی کے ایرانی خط میں مطلا، پینسٹھ جلدیں معتبر تفسیروں کی ، شاہنامہ فردوسی کے پانچ نسخے جن میں سے تین مصور ومطلا تھے۔
حدیث کی تمام معتبر کتابیں مع شروح ، جامع الاصول تیسر الوصول ، احیاء العلوم اور فتوحات مکیہ کے تین تین نسخے اور سب جلدیں شاہانہ ہیں۔( سیرت احمد شہید از غلام رسول مہر ، ص: 260، تاریخ دعوت وعزیمت ۔ سید ابو الحسن علی ندوی ، ص : 476 حصہ ششم / اول)
ذاتی اوصاف
حضرت سید صبغت اللہ شاہ تجر دھنی نے مسند پر براجمان ہوتے ہی اسباب کو چھوڑ دیا ، فقیری حال میں رہے۔ اس کے باوجود بڑے سخی تھے کسی سائل کو خالی نہیں لوٹاتے۔ اس حوالہ سے آپ کا فرمان ہے کہ، ” کسی بھی حاجتمند سائل کو خالی نہ لوٹایا جائے ممکن حد تک اس کی ضرورت پوری کرنے کی کوشش کی جائے۔ ( خزانۃ المعرفۃ 452)
کبھی ایسا بھی ہوا کہ اپنے جسم کا لباس بھی اور جو نقد موجود ہوتا خیرات کردیتے ، توکل کا یہ عالم کہ رات کو پانی کے بھرے مٹکے بھی خالی کردیتے کہ کل صبح اللہ تعالیٰ عطا فرمائے گا۔
اللہ غنی نے آپ کی ذات میں عجب استغنا اور بے نیازی رکھی تھی کہ صاحب ثروت اور امراء کی صحبت میسر ہونے کے باوجود ہمیشہ فقراء اور مساکین کے مجمعہ میں ہوتے تھے۔ کسی سائل کے لئے اہل ثروت کے ہاں جاتے تو وہاں بھی عجب بے نیازی کا مظاہرہ دکھاتے تھے۔
جیسے ایک بار نواب ولی محمد لغاری (حاکم لاڑکانہ) کے پاس آئے تو اس نے پوچھا کہ حضرتا ! فقیر لوگ تو امراء کے دروازے پر جانے سے خود کو بے نیاز سمجھتے ہیں پھر آپ نے کیسے زحمت فرمائی، تو آپ نے فرمایا ! ہاں ، قضائ حاجت کے ارادہ سے بیت الخلا بھی جانا پڑتا ہے۔ ( خزانۃ المعرفۃ 235)
عفوو درگزر کرنے والی خاندانی روایت کو آپ نے بھی قائم رکھا۔ جس طرح لاڑ کے سفر میں آپ نے چوروں کو معاف کردیا۔ اور ایسے متعدد واقعات آپ کی ملفوظات میں ہیں۔
ازان سوا حضرت تجر دھنی نے فلاحی اور سماجی خدمات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ مقروض لوگوں کی مدد یا سندھ میں قبیلائی لڑائیوں میں فریقین کے پاس بطور منت جانا اور ان میں صلح کروانا۔ سفارش کے لئے عام لوگوں کو مہر بند رقعہ بھی دیتے تھے۔
اپنے مریدوں پر شفقت اور ان سے محبت کرتے تھے ، ہر وقت انکی دلجوئی فرماتے تھے۔
معمولات
حضرت تجر دھنی نے اپنے والد گرامی کی طرح شریعت کو ہمیشہ مقدم سمجھتے تھے۔ اس لئے شرعی احکامات میں نہ خود سستی کرتے تھے اور نہ کسی اور سے یہ برداشت کرتے تھے۔ سنت نبوی پر پابندی سے عمل کرتے تھے۔ اس حوالہ سے آپ کا فرمان ہے
عامی لوگ کہتے ہیں کہ فلاں شخص پیر، فلاں فقیر اور فلاں ولی ہے ان کا یہ گمان اور غلط قول اور بھول ہے مگر پیر، فقیر اور ولی وہ ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی متابعت پر مضبوط اور قائم ہیں۔ ( خزانۃ المعرفۃ 56)
حضرت تجر دھنی کے معمولات میں قرآن کریم کی روزانہ تلاوت، رمضان المبارک کے ہر روز ختم ، رات کو تراویح میں قرآن پاک سنانا، سورہ یاسین کا عمل، اور روزانہ ڈھائی پاروں کے انداز میں مختلف اوراد و وظائف کا معمول تھا۔ پنج گانہ نماز کے اوقات میں مختلف اوراد کا ذکر خزانۃ المعرفۃ میں موجود ہے۔
شادی و اولاد
حضرت سید صبغت اللہ شاہ اول تجر دھنی نے ایک سے زائد نکاح کئے، ایک شادی شکارپور کے پٹھانوں سے ، ایک شادی کچھ علاقہ سے کی۔ جن میں سے سات فرزند پیدا ہوئے۔
سید عبدالقادر شاہ، سید غلام مصطفیٰ شاہ، سید علی گوہر شاہ اول، سید علی محمد شاہ، سید علی حیدرشاہ، سید علی ذوالفقار شاہ، سید شاہ مراد شاہ۔ ایک صاحبزادہ بچپن میں فوت ہوا۔
خلفاء
حضرت پیر سید صبغت اللہ شاہ تجر دھنی کے لاکھوں مریدیں میں سے کچھ ایسے حضرات تھے ، جن کو دینی قابلیت کے بنا پر خلافت سے نوازا گیا۔ کچھ ایسے خلفاء بھی آپ کی صحبت میں ہوتے تھے جو والد گرامی کے مرید تھے۔
باقی خلفاء میں خلیفہ غوث محمد قریشی، خلیفہ خدابخش، خلیفہ محمد صدیق ساند، خلیفہ محمد عابد، خلیفہ عبدالباسط، خلیفہ سید نور علی شاہ، خلیفہ نوراللہ، خلیفہ محمد اسماعیل، میر مرزا ٹالپر، خلیفہ محمد رحیم، خلیفہ امام دین، نظر علی مری، میاں ولی محمد کیریہ اور دیگر شامل ہیں۔
نمایاں خدمات
حضرت پیر سید صبغت اللہ شاہ اول تجر دھنی نے اپنے عظیم والد گرامی کے وصال کے بعد اپنی جماعت کو یکجا رکھا اور انہیں تسلی دی۔ ارشاد و تبلیغ کے سلسلے جو والد گرامی نے قائم کئے تھے ان کو نہ صرف جاری رکھا بلکہ اضافہ بھی کیا۔ شرعی احکامات پر سختی سے عمل کروایا۔ جہاد فی سبیل اللہ کے لئے اپنی جماعت کو منظم کیا۔ اس سلسلہ میں مختلف اطراف میں مکتوب ارسال فرمائے ۔ عظیم کتب خانہ کی بنیاد ڈالی۔
تصنیفات
حضرت پیر صاحب تجر دھنی کی ملفوظات “خزانۃ المعرفت ” اور مکتوبات ” خزانۃ الاسرار” کو آپ کے فرزند پیر پگاڑہ دوم سید علی گوہر شاہ اول نے مرتب کیا۔
وصال
پیر سید صبغت اللہ شاہ اول تجر دھنی ، 12 سال مسند پر فائز رہ کر 1246 ہجری میں وصال فرما گئے۔ آپ کی تدفین والد گرامی کے پہلو میں قریہ رحیم ڈنہ کلہوڑہ ( خیرپور میرس سندھ) میں ہوئی۔ جہاں سے 4 سال بعد دریا بردی کے باعث حضرت سید محمد راشد اور حضرت سید صبغت اللہ شاہ اول تجر دھنی کے اجساد کو منتقل کر کے پیر جو گوٹھ ( موجودہ خانقاہ ) پر دفن کئے گئے۔